آزاد جموں و کشمیر میں شفاف انتخابات: چیف الیکشن کمشنر کی ہدایات

Jul 28, 2026 - 05:56
Updated: 9 hours ago
0 1
آزاد جموں و کشمیر میں شفاف انتخابات: چیف الیکشن کمشنر کی ہدایات

آزاد جموں و کشمیر میں انتخابی عمل کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر جسٹس غلام مصطفی مغل نے واضح کیا ہے کہ انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ آزادانہ اور منصفانہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جب انتخابی ماحول خودبخود اعتماد پیدا کرے، تو پولنگ کے دن ووٹر کی شرکت بھی بہتر ہوتی ہے اور نتائج بھی عوامی خواہشات کی حقیقی عکاسی کرتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کا انعقاد صرف انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک آئینی و اخلاقی عمل ہے۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ انتخابی قواعد و ضوابط کی پابندی، انتخابی فہرستوں کی درستگی، اور پولنگ سے پہلے تمام متعلقہ مراحل کی نگرانی مؤثر انداز میں کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت کا معیار اسی وقت قائم رہتا ہے جب ہر سطح پر احتساب اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے امیدواروں، سیاسی جماعتوں اور انتخابی عملے سے اپیل کی کہ وہ ضابطہ اخلاق کو سنجیدگی سے اپنائیں۔ ان کے مطابق سیاسی سرگرمیوں میں نفرت انگیز یا اشتعال انگیز طرزِ عمل سے گریز کیا جائے اور عوام کو ایسی معلومات فراہم کی جائیں جو درست اور قابلِ تصدیق ہوں۔ اس طرح انتخابی ماحول میں مثبت مقابلہ اور قانون کی حکمرانی برقرار رہتی ہے۔

انتخابی عمل کے اہم اصول

جسٹس غلام مصطفی مغل کے مطابق انتخابی عمل کی مضبوطی چند بنیادی اصولوں سے مشروط ہے:

  • آزادانہ ماحول: ووٹر کو کسی بھی دباؤ یا خوف کے بغیر اپنا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو۔
  • منصفانہ انتظام: پولنگ اسٹیشنوں پر عملہ غیر جانبدار ہو اور طریقۂ کار یکساں رہے۔
  • شفاف نگرانی: حساس مراحل میں نگرانی اور رپورٹنگ کا نظام مؤثر ہو۔
  • قانون کی پابندی: ضابطہ اخلاق اور انتخابی قوانین پر عمل ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔

چیف الیکشن کمشنر نے یہ بھی بتایا کہ انتخابی عمل کے دوران شکایات کے ازالے کے لیے واضح طریقۂ کار موجود ہونا چاہیے۔ جب شکایات بروقت سنی جائیں اور ان پر قانون کے مطابق کارروائی ہو، تو عوام کا اعتماد بڑھتا ہے اور انتخابی عمل مزید مضبوط ہوتا ہے۔

ووٹ کا تقدس اور عوامی اعتماد

ان کے مطابق ووٹ کی اہمیت محض ایک حق نہیں بلکہ جمہوری اقدار کا نمائندہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر ووٹر کو اپنی مرضی سے رائے دینے کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انتخابی عمل میں سہولت اور شفافیت کے امتزاج سے نہ صرف پولنگ کا تناسب بہتر ہوتا ہے بلکہ نتائج بھی عوامی ترجیحات کے مطابق سامنے آتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین تعاون کریں گے تاکہ آزاد جموں و کشمیر میں انتخابی عمل کا پہلا مرحلہ واقعی آزادانہ اور منصفانہ ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ نظام کو مضبوط، غیر جانبدار اور شفاف انداز میں چلائے، جبکہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر انتخابی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ شفاف انتخابات ہی ریاستی سطح پر جمہوری تسلسل کی ضمانت ہیں۔ جب ہر مرحلے میں احتیاط، نگرانی اور قانون کی حکمرانی برقرار رہے تو عوام کو ایک ایسا انتخاب ملتا ہے جس پر وہ اعتماد کر سکیں اور جس کے نتائج کو جمہوری روح کے مطابق تسلیم کیا جا سکے۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0

Comments (0)

User