شایع محسن الزندانی: بحیرہ احمر میں حوثی حملے ایرانی ایجنڈے کا حصہ

Jul 27, 2026 - 08:34
Updated: 1 day ago
0 1
شایع محسن الزندانی: بحیرہ احمر میں حوثی حملے ایرانی ایجنڈے کا حصہ

بحیرہ احمر میں حالیہ دنوں میں ہونے والے حملوں کے حوالے سے وزیرِاعظم شایع محسن الزندانی نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں دراصل کسی بیرونی منصوبے—یعنی ایرانی ایجنڈے—کی تکمیل کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق یہ حملے محض مقامی تنازع تک محدود نہیں بلکہ خطے کی سلامتی، بحری آمدورفت اور عالمی تجارت کے لیے براہِ راست خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

شایع محسن الزندانی کے بیان میں یہ نکتہ نمایاں رہا کہ بحیرہ احمر ایک انتہائی اہم تجارتی راہداری ہے جہاں سے توانائی اور سامان کی ترسیل کا عمل عالمی سطح پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب اس راستے پر حملوں کا سلسلہ بڑھتا ہے تو نہ صرف جہاز رانی کے اخراجات اور رسک میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ تاخیر اور رسد کی رکاوٹیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات کے اثرات عام لوگوں کی روزمرہ زندگی تک پہنچتے ہیں، اس لیے ان کا سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔

حوثی حملوں کا پس منظر اور الزندانی کا مؤقف

وزیرِاعظم کے مطابق حوثیوں کی کارروائیاں اپنی اصل شکل میں ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا ہدف خطے میں اثر و رسوخ کی سیاست کو آگے بڑھانا بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے اقدامات سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے اور فریقین کے درمیان اعتماد مزید کمزور پڑتا ہے۔ ان کے الفاظ میں، اگر اس سلسلے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بحیرہ احمر میں عدم استحکام طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔

شایع محسن الزندانی نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی برادری کو ایسے پیٹرن کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے کیونکہ بحری حدود اور عالمی تجارت پر حملے کسی ایک ملک یا گروہ تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے واقعات سے سمندری تحفظ کے ادارہ جاتی نظام پر دباؤ بڑھتا ہے اور علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت مزید واضح ہو جاتی ہے۔

علاقائی سلامتی، تجارت اور سفارت کاری کے تقاضے

بیان کے مطابق حکومت کی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ بحران کو بڑھانے والی سرگرمیوں کو کم کیا جائے اور ایسے راستے اختیار کیے جائیں جن سے کشیدگی میں کمی ممکن ہو۔ وزیرِاعظم نے یہ تاثر بھی دیا کہ سفارتی سطح پر رابطے، نگرانی اور حفاظتی اقدامات—تینوں پہلوؤں پر یکساں توجہ درکار ہے۔ اس ضمن میں بحری گزرگاہوں کی حفاظت، رسک مینجمنٹ اور معلومات کی بروقت فراہمی کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔

مزید یہ کہ اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو جہاز رانی کے لیے متبادل راستوں کی تلاش، انشورنس پریمیم میں اضافہ اور سامان کی ترسیل میں تاخیر جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو خطے میں استحکام کی سمت لے جائیں۔

آخر میں شایع محسن الزندانی نے کہا کہ بحیرہ احمر میں ہونے والے واقعات پر خاموشی اختیار کرنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق مسئلے کی اصل جڑ کو سمجھ کر ہی مؤثر حکمت عملی اپنائی جا سکتی ہے، تاکہ عالمی تجارت محفوظ رہے اور علاقائی امن کو برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0

Comments (0)

User