سیاست میں تحمل: شرجیل میمن کی مسلم لیگ ن پر تنقید

Jul 28, 2026 - 05:56
Updated: 1 month ago
0 2
سیاست میں تحمل: شرجیل میمن کی مسلم لیگ ن پر تنقید

سندھ کے سینئر وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بدمعاشوں اور غنڈوں کو سامنے لا کر سیاسی گفتگو کو بدامنی میں بدلنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق سیاست کا میدان بحث و مباحثے، عوامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے قابلِ عمل حکمت عملی تک محدود ہونا چاہیے، نہ کہ طاقت کے اظہار یا دھمکیوں کے کلچر کو معمول بنانا۔

شرجیل انعام میمن نے یہ بات اس تناظر میں کہی کہ حالیہ دنوں میں سیاسی بیانات، جلسہ جلوس اور کارکنوں کے درمیان تلخیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی ایسے رویّوں کی سختی سے مخالفت کرتی ہے اور عوامی نمائندگی کو باوقار انداز میں آگے بڑھانے کی خواہاں ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں امن و امان اور اداروں کی بالادستی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تاکہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کو نقصان نہ پہنچائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم لیگ ن واقعی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا چاہتی ہے تو اسے الزام تراشی اور اشتعال انگیزی کے بجائے پالیسیوں، کارکردگی اور عوامی خدمت کے نتائج پر بات کرنی چاہیے۔ شرجیل میمن کے مطابق سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات فطری ہیں، مگر اختلاف کو تشدد یا کردار کشی میں بدلنا کسی بھی جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کا موقف یہ بھی تھا کہ سیاسی گفتگو میں تلخی بڑھنے سے نہ صرف سیاسی فضا متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔

سیاست میں تحمل اور جمہوری اقدار

بیان میں ایک نمایاں نکتہ یہ تھا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے سیاسی قیادت کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ عوام نے ہمیشہ ایسے رہنماؤں کی حمایت کی ہے جو مسائل کے حل کے لیے واضح حکمت عملی پیش کریں اور محض سخت زبان یا محاذ آرائی کے ذریعے اپنی سیاسی برتری ثابت کرنے کے بجائے عملی اقدامات دکھائیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی سندھ میں عوامی خدمت کے اپنے بیانیے پر قائم ہے اور ایسے بیانات سے گریز کرتی ہے جو ماحول کو مزید کشیدہ کریں۔

سندھ کے مسائل اور حکومتی ترجیحات

سیاسی تنقید کے ساتھ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ توجہ بنیادی طور پر سندھ کے عوامی مسائل پر ہونی چاہیے۔ ان مسائل میں روزگار کے مواقع، تعلیم کی بہتری، صحت کی سہولتوں کا پھیلاؤ اور شہری و دیہی سطح پر بنیادی سہولتوں میں اضافہ شامل ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لائے اور عوام کو محسوس ہونے والی تبدیلی لائے، تاکہ سیاسی بحث و مباحثہ عوامی زندگی سے جڑی رہے۔

  • امن و امان کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور
  • سیاسی گفتگو کو تشدد سے دور رکھنے کا مطالبہ
  • عوامی مسائل پر پالیسی بنیاد گفتگو کی تلقین

بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث تیز ہو گئی ہے کہ آیا موجودہ سیاسی فضا میں سخت زبان مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے یا پھر یہ محض انتخابی و بیانیاتی تقابل کا حصہ ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے رہنما کے مطابق جمہوری اداروں کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کے لیے سیاسی قیادت کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا، کیونکہ جمہوریت کا معیار صرف نعرے نہیں بلکہ سیاسی اخلاقیات، تحمل اور قانون کی پابندی سے ماپا جاتا ہے۔

آخر میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی بھی صورت میں انتقام یا اشتعال انگیزی کے راستے پر نہیں چلے گی۔ ان کے مطابق سندھ اور پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ قانون کی بالادستی، جمہوری اقدار اور عوام دوست اقدامات ہیں۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0
ویب ڈیسک

Daily Nijaat Web Desk

Comments (0)

User