سپریم کورٹ کا حق مہر کی جائیداد فروخت پر فیصلہ: غلط قرار

Jul 28, 2026 - 05:56
Updated: 7 hours ago
0 1
سپریم کورٹ کا حق مہر کی جائیداد فروخت پر فیصلہ: غلط قرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے حق مہر میں درج جائیداد کو کسی اور فریق کو فروخت کرنے کے عمل کو غلط اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے اس کیس میں فریقین کے حقوق، مہر کی قانونی حیثیت اور جائیداد کی منتقلی کے اصولوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ فیصلے نے اس اہم سوال کو واضح کیا کہ جب کسی جائیداد کو مہر کے طور پر مخصوص کر دیا جائے تو بعد میں اسی جائیداد پر بیع یا دیگر تصرف کس حد تک جائز ہو سکتا ہے۔

عدالتی ریمارکس کے مطابق مہر محض ایک مالی وعدہ نہیں بلکہ قانون کے تحت ایک باقاعدہ حق ہے جو متعلقہ فریق (عام طور پر خاتون) کو حاصل ہوتا ہے۔ اگر مہر کی ادائیگی یا مہر کے تعین میں کسی جائیداد کو واضح طور پر شامل کیا گیا ہو تو اس جائیداد پر کسی تیسرے شخص کے حق کو ترجیح دینا یا اسے فروخت کرنا اصولِ انصاف کے منافی ہو سکتا ہے۔ بنچ نے زور دیا کہ ایسی صورت میں جائیداد کے بارے میں فریقین کے حقوق کا احترام لازم ہے اور عدالتیں اس نوعیت کے معاملات میں قانونی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

حق مہر میں درج جائیداد کی قانونی حیثیت

حق مہر کے تعین میں جائیداد کی شمولیت اس بات کی واضح علامت ہے کہ جائیداد کا مقصد مخصوص فائدہ دینا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ نکتہ مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ مہر کے لیے مخصوص جائیداد کو قبضہ، ملکیت یا ملکیتی حقوق کے حوالے سے ایسے معاملات میں استعمال نہیں کیا جا سکتا جہاں اس حق کو نقصان پہنچے۔ اس طرح کی کارروائی نہ صرف فریق کے حق کی خلاف ورزی بنتی ہے بلکہ عدالت کے نزدیک یہ عمل بنیادی قانونی اصولوں سے انحراف بھی شمار ہو سکتا ہے۔

فیصلے کے عملی اثرات

اس فیصلے کے اثرات خاندان عدالتوں اور سول تنازعات پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی مقدمے میں ثابت ہو جائے کہ جائیداد کو مہر کے طور پر شامل کیا گیا تھا اور پھر اسے کسی اور کو فروخت کر دیا گیا تو عدالتیں ایسے تصرفات کو غیر موثر یا قابلِ چیلنج قرار دینے کی طرف مائل ہو سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں فریقین کو مزید احتیاط برتنے کی ضرورت محسوس ہو گی، خصوصاً اس مرحلے پر جب مہر کی ادائیگی یا مہر کی جائیداد کی منتقلی کے حوالے سے کوئی دستاویزات تیار کی جا رہی ہوں۔

متعلقہ فریقین کے لیے رہنمائی

یہ کیس اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ مہر کے دعوے یا جائیداد کے حقوق سے متعلق تنازع میں دستاویزات اور ریکارڈ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ عام طور پر درج ذیل امور فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں:

  • مہر نامہ/معاہدے میں جائیداد کی واضح تفصیل (رقبہ، لوکیشن، شناختی نمبر وغیرہ)
  • فریقین کا ارادہ اور معاہدے کی شرائط
  • فروخت یا منتقلی کے وقت مہر کی حیثیت
  • ریکارڈ میں ملکیت اور قبضے کا تسلسل

مجموعی طور پر سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے حق مہر میں درج جائیداد کے تحفظ کو تقویت دی ہے اور واضح کیا ہے کہ مہر کا حق قانون کے مطابق معتبر ہے۔ ایسی کسی بھی کارروائی پر نظر رکھی جائے گی جو متعلقہ فریق کے حق کو متاثر کرے یا اسے نقصان پہنچائے۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0

Comments (0)

User