سنجے دت کی والدہ نرگس دت کی موت: تکلیف دہ یادیں

Jul 31, 2026 - 14:25
Updated: 11 days ago
0 1
سنجے دت کی والدہ نرگس دت کی موت: تکلیف دہ یادیں

فائل فوٹوزبالی ووڈ اداکار سنجے دت نے اپنی زندگی کے ایک انتہائی تکلیف دہ باب کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ والدہ نرگس دت کی کینسر کے باعث موت نے ان کے دل پر گہرا اور دیرپا اثر چھوڑا۔ یہ وہ وقت تھا جب ایک بیٹے کے لیے صرف بیماری کا خوف نہیں تھا بلکہ مسلسل انتظار، بے بسی اور امید کے درمیان چلنے والا طویل مرحلہ بھی تھا۔

سنجے دت کے مطابق والدہ کی صحت کے بارے میں خبریں سننا، علاج کی امیدیں باندھنا اور پھر دوبارہ ٹوٹ جانا—یہ سب جذباتی طور پر بہت بھاری تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران گھر کا ماحول بدل گیا تھا، گفتگو میں احتیاط آ گئی تھی اور ہر دن کسی امتحان کی طرح لگتا تھا۔ نرگس دت کی شخصیت اور ان کی محبت سنجے دت کے لیے ہمیشہ طاقت رہی، مگر کینسر جیسی بیماری نے اس طاقت کو بھی مسلسل آزمائش میں ڈال دیا۔

یہ واقعہ سنجے دت کی زندگی میں اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے اسے محض ایک افسوسناک یاد نہیں بلکہ ایک ایسے موڑ کے طور پر بیان کیا جہاں انسان اپنے اندر کی ہمت کو بھی نئی شکل میں ڈھالنے لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدہ کی جدوجہد دیکھ کر انہیں احساس ہوا کہ دکھ کے باوجود امید قائم رکھی جا سکتی ہے، اور خاندان کی باہمی قربت بحران کے وقت سب سے بڑا سہارا بنتی ہے۔

یادوں کے سائے میں وہ جذبات

سنجے دت جب نرگس دت کی موت کو یاد کرتے ہیں تو ان کی باتوں میں ایک واضح خاموشی بھی محسوس ہوتی ہے—وہ خاموشی جو صدمے کے بعد رہ جاتی ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات انسان الفاظ میں اپنے درد کو مکمل بیان نہیں کر پاتا، لیکن یادیں خود بولنے لگتی ہیں۔ والدہ کے علاج کے مراحل، ہسپتال کے لمحات، اور گھر واپس آنے کے بعد بھی دل میں رہ جانے والی بے قراری—یہ سب ان کے لیے آج بھی تازہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس طرح کے سانحات صرف اس وقت تک محدود نہیں رہتے جب تک کوئی شخص موجود ہو؛ بعد میں بھی زندگی اپنی رفتار بدل دیتی ہے۔ سنجے دت کے لیے یہ نقصان ایک سبق بن کر سامنے آیا: وقت کی قدر، رشتوں کی اہمیت، اور اپنے پیاروں کے لیے بہتر رویہ اپنانے کی ضرورت۔

کینسر اور خاندان کی جنگ

کینسر ایک ایسی بیماری ہے جو صرف مریض کو نہیں بلکہ پورے گھر کو متاثر کرتی ہے۔ سنجے دت کی کہانی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خاندان کے افراد بھی ذہنی دباؤ، معاشی و جذباتی دباؤ اور مسلسل پریشانی سے گزرتے ہیں۔ ایسے وقت میں ڈاکٹرز کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی اور نفسیاتی سہارا بھی ناگزیر ہوتا ہے۔

سنجے دت کی گفتگو سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ مشکل حالات میں انسان کی طاقت محض ہمت نہیں، بلکہ محبت اور یادوں کی وہ گرمی ہوتی ہے جو دل کو تھامے رکھتی ہے۔ نرگس دت کی موجودگی اگرچہ ختم ہو گئی، مگر ان کی محبت سنجے دت کی زندگی میں ایک مسلسل حوالہ بن کر رہ گئی۔

آج جب سنجے دت اس تکلیف دہ باب کو بیان کرتے ہیں تو وہ بیک وقت اپنے ذاتی غم کو بھی سنبھالتے ہیں اور دوسروں کے لیے یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ رشتوں کی قدر، بیماری کے دوران صبر، اور یادوں کے ذریعے زندگی کو آگے بڑھانا ممکن ہے۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0
ویب ڈیسک

Daily Nijaat Web Desk

Comments (0)

User