محسن نقوی کے سسٹم فیل بیان پر خیبرپختونخوا کی تنقید
خیبر پختون خوا کے سابق مشیرِ اطلاعات، بیرسٹر محمد علی سیف نے محسن نقوی کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ “سسٹم فیل” ہونے کا دعویٰ دراصل وفاقی حکومت کی کارکردگی میں کمزوری اور انتظامی ناکامی کو چھپانے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق سیاسی بیانات کے ذریعے حقیقی ذمہ داری سے گریز کیا جا رہا ہے، جبکہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات درکار ہوتے ہیں۔
بیرسٹر محمد علی سیف کے خیال میں جب کسی نظام یا عمل میں خرابی کی بات کی جاتی ہے تو اس کے اسباب، ذمہ دار اداروں اور فوری اصلاحی لائحہ عمل کا واضح ہونا ضروری ہے۔ محض یہ کہہ دینا کہ “سسٹم فیل” ہو گیا، نہ تو تحقیقات کی راہ ہموار کرتا ہے اور نہ ہی متاثرہ لوگوں کو بروقت ریلیف فراہم کرتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت کو شفافیت کے ساتھ بتانا چاہیے کہ خرابی کیوں ہوئی، کب ہوئی، کس سطح پر ہوئی اور اسے کتنے وقت میں درست کیا گیا۔
اس تنقید کے پس منظر میں سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے کہ بیانات اور دعووں کے بجائے زمینی حقائق کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ناقدین کے مطابق اگر واقعی کوئی تکنیکی یا انتظامی مسئلہ پیش آیا تھا تو اس کی پیشگی تیاری، بیک اپ پلان اور متعلقہ ٹیموں کی ذمہ داری پہلے سے طے ہونی چاہیے تھی۔ جب تیاری موجود نہ ہو تو پھر “سسٹم فیل” جیسے جملے عوام کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں اور سوالات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
سابق مشیرِ اطلاعات کی بنیادی باتیں
- ذمہ داری کی وضاحت: محض دعویٰ کافی نہیں، خرابی کی وجوہات اور ذمہ دار اداروں کی نشاندہی ضروری ہے۔
- شفاف تحقیقات: تحقیقات اور رپورٹنگ کے بغیر عوام کو مطمئن کرنا ممکن نہیں۔
- اصلاحی اقدامات: فوری اصلاحی لائحہ عمل اور متاثرہ افراد کے لیے ریلیف کی سمت واضح قدم اٹھانا چاہیے۔
- سیاسی پردہ پوشی: ان کے مطابق بیان وفاقی حکومت کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔
وفاقی طرزِ عمل پر سوالات
سیاسی و انتظامی سطح پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت کے تحت چلنے والے نظاموں میں کوتاہی کی صورت میں کیا احتساب کا میکنزم موجود ہے یا نہیں۔ اگر کوئی نظام بار بار ناکام ہو تو پھر یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ پالیسی، نگرانی اور عمل درآمد کے مسائل کی نشاندہی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے بیرسٹر محمد علی سیف کا موقف یہ ہے کہ حکومت کو بیانات کے بجائے اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے “غلط فہمی” یا “سسٹم فیل” جیسے الفاظ کے ذریعے معاملہ ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاستی نظام میں اعتماد تبھی بحال ہوتا ہے جب فیصلے، عمل درآمد اور نتائج میں تسلسل نظر آئے، اور خرابی کی صورت میں ذمہ داریاں متعین ہوں۔
مجموعی طور پر بیرسٹر محمد علی سیف کی جانب سے سامنے آنے والا ردعمل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سیاسی بیانات کے بجائے شفافیت، احتساب اور فوری اصلاحات کی ضرورت اب زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وفاقی حکومت اس معاملے پر کیا جواب دیتی ہے اور کیا واقعی “سسٹم فیل” کے دعوے کے ساتھ کوئی ٹھوس وضاحت اور عملی پلان بھی سامنے آتا ہے یا نہیں۔
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0
Comments (0)