ڈاکٹر پرویز بٹ کی رحلت: پاکستان کی ایٹمی سائنس کے روشن نقوش
پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر پرویز بٹ 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی رحلت پاکستان کی سائنسی برادری کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، کیونکہ ڈاکٹر پرویز بٹ نے اپنی زندگی کا قابلِ قدر حصہ تحقیق، ادارہ جاتی مضبوطی اور قومی ترقی کے لیے وقف رکھا۔
ڈاکٹر پرویز بٹ نے پاکستان کی سائنس کو جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کے دورِ قیادت میں ادارے کی تحقیقاتی سمت میں تسلسل، معیار اور عملی اطلاق پر توجہ نمایاں رہی۔ سائنس و ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد کے مطابق ان کی سوچ میں منصوبہ بندی، سائنسی دیانت داری اور طویل المدت نتائج پر یقین بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔
سائنس کے لیے قیادت اور وژن
پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن جیسے ادارے کی ذمہ داریاں صرف تکنیکی نہیں بلکہ قومی حکمتِ عملی سے بھی جڑی ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر پرویز بٹ نے اسی پیچیدہ تناظر میں رہتے ہوئے تحقیق کو پالیسی اور عوامی ضرورت سے ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کی۔ ان کی قیادت میں ادارے کے مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی اور تحقیق کو قابلِ نفاذ بنانے کی سمت پر زور دیا گیا۔
تحقیق، معیار اور تربیت پر فوکس
ان کے کام کی ایک نمایاں خصوصیت تحقیق کے معیار کو برقرار رکھنا اور نئی نسل کے سائنس دانوں کی تربیت کو اہمیت دینا تھی۔ ڈاکٹر پرویز بٹ کے نزدیک سائنس کا اصل سرمایہ انسانی صلاحیت ہے، اسی لیے وہ اداروں میں مہارت، نظم و ضبط اور تحقیقی ثقافت کو فروغ دینے کے حامی رہے۔ ان کی نگرانی میں مختلف منصوبوں کی پیش رفت میں سائنسی طریقۂ کار، ڈیٹا کی درستگی اور نتائج کی تصدیق کو ترجیح دی جاتی رہی۔
پاکستان میں جوہری توانائی اور متعلقہ سائنسی میدانوں کی ترقی میں ڈاکٹر پرویز بٹ کی خدمات کو مسلسل سراہا جاتا رہا۔ ان کے دور میں تحقیق کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے، جدید تقاضوں کے مطابق نظام بہتر بنانے اور بین الاقوامی علمی معیار کے مطابق کام کرنے کی کوششیں بھی نظر آئیں۔
قومی ورثہ اور یادگار خدمات
ڈاکٹر پرویز بٹ کی رحلت نہ صرف ایک شخص کی کمی ہے بلکہ ایک ادارہ جاتی یادداشت کے ختم ہونے کا احساس بھی پیدا کرتی ہے۔ ان کے چاہنے والوں اور ساتھیوں کے لیے وہ عزم، ذمہ داری اور سائنسی سوچ کی علامت تھے۔ پاکستان کی سائنسی تاریخ میں ان کا نام اس دور کی نمائندگی کرتا رہے گا جب تحقیق کو قومی مفاد کے ساتھ جوڑ کر آگے بڑھانے کی کوشش تیز کی گئی۔
ان کی وفات پر حکومتِ پاکستان، سائنسی اداروں اور عوام کی جانب سے اظہارِ تعزیت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم ڈاکٹر پرویز بٹ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ ان کی خدمات اور وژن آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گے۔
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0
Comments (0)