کشمیر میں سرحد پار سے بھائی کا آخری دیدار: ’صرف چند میٹر کا فاصلہ ہے مگر دریا کی لہروں نے ہمیں ملنے نہ دیا‘

جب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کیرن میں راجہ لیاقت علی خان کی وفات ہوئی تو تجہیز و تکفین سے قبل ایک بڑا مسئلہ درپیش تھا کیونکہ کیرن انڈیا اور پاکستان کے درمیان چند میٹر چوڑے دریائے نیلم سے بٹا ہوا ہے۔ لیاقت کے والدین اور بہن بھائی 1990 میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی پاکستان کے زیرانتظام کشمیر چلے گئے اور وہیں آباد ہوگئے تھے۔ انھیں میت دریا کے اس پار سے دکھائی گئی۔

Apr 28, 2026 - 01:52
 0  2
کشمیر میں سرحد پار سے بھائی کا آخری دیدار: ’صرف چند میٹر کا فاصلہ ہے مگر دریا کی لہروں نے ہمیں ملنے نہ دیا‘
جب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کیرن میں راجہ لیاقت علی خان کی وفات ہوئی تو تجہیز و تکفین سے قبل ایک بڑا مسئلہ درپیش تھا کیونکہ کیرن انڈیا اور پاکستان کے درمیان چند میٹر چوڑے دریائے نیلم سے بٹا ہوا ہے۔ لیاقت کے والدین اور بہن بھائی 1990 میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی پاکستان کے زیرانتظام کشمیر چلے گئے اور وہیں آباد ہوگئے تھے۔ انھیں میت دریا کے اس پار سے دکھائی گئی۔

What's Your Reaction?

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow