83 سالہ مصری خاتون امل کی تعلیم: عمر کی نہیں، شوق کی فتح

Jul 26, 2026 - 11:15
Updated: 2 months ago
0 1
83 سالہ مصری خاتون امل کی تعلیم: عمر کی نہیں، شوق کی فتح

—فوٹو بشکریہ سوشل میڈیاایک مشہور کہاوت ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ اب اس کہاوت کو مصر کی خاتون 83 سالہ اَمل کی زندگی نے ایک بار پھر حقیقت بناتے ہوئے ثابت کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان کی تصویر اور مختصر کہانی نے ہزاروں لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی، کیونکہ اَمل کی جدوجہد صرف ذاتی شوق نہیں بلکہ ایک حوصلہ افزا پیغام بھی ہے کہ سیکھنے کی خواہش کبھی مدھم نہیں پڑتی۔

کہا جاتا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھتی ہیں، مگر اَمل نے اپنی ذمہ داریوں کے باوجود تعلیم کی طرف قدم بڑھایا۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ برسوں سے اپنے اندر ایک سوال اور ایک تجسس رکھتی تھیں—علم کو مزید سمجھنا، نئی معلومات سے خود کو اپ ڈیٹ رکھنا، اور اپنے تجربے کو علم کے ذریعے مزید باوقار بنانا۔ جب انہیں موقع ملا تو انہوں نے اسے ضائع نہیں ہونے دیا۔

ان کی کہانی اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ صرف ایک فرد کی کامیابی تک محدود نہیں۔ خواتین کی تعلیم دنیا کے کئی حصوں میں ایک مسلسل چیلنج رہی ہے، اور مصر جیسے ممالک میں بھی روایتی سوچ، وسائل کی کمی اور وقت کی قلت جیسے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ اَمل کی مثال ان رکاوٹوں کے باوجود امید کی علامت بنتی ہے، اور یہ دکھاتی ہے کہ اگر نیت مضبوط ہو تو سیکھنے کا راستہ نکل ہی آتا ہے۔

سوشل میڈیا نے کیا کردار ادا کیا؟

ان کی تصویر اور ویڈیو کلپس نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک وسیع دائرے تک پیغام پہنچایا۔ لوگ صرف “حوصلہ افزائی” کے لیے نہیں بلکہ یہ جاننے کے لیے بھی متجسس ہوئے کہ آخر اَمل نے تعلیم کی طرف کیسے قدم بڑھایا۔ یہی تجسس مزید گفتگو، مزید حوصلہ، اور مختلف سطحوں پر سپورٹ کی شکل اختیار کر گیا۔ بعض صارفین نے ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے تعلیمی اداروں اور مقامی تنظیموں سے مزید مواقع پیدا کرنے کی اپیل بھی کی۔

83 سال میں سیکھنے کا سفر کیسے ممکن ہوا؟

اَمل کی کامیابی کے پیچھے چند واضح عناصر نظر آتے ہیں۔ اول، مسلسل شوق: انہوں نے تعلیم کو وقتی رجحان نہیں بلکہ زندگی کا حصہ بنایا۔ دوم، مناسب رہنمائی: جب کسی عمر میں نئے موضوعات کو سیکھنا ہو تو استاد یا سرپرست کی رہنمائی اہم ہو جاتی ہے۔ سوم، عملی عادتیں: روزانہ تھوڑا وقت، باقاعدگی سے مطالعہ، اور جو بات سمجھ نہ آئے اسے دوبارہ پوچھنا—یہی وہ طریقے ہیں جنہوں نے ان کے اعتماد میں اضافہ کیا۔

ان کی کہانی یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ سیکھنا صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہوتا۔ آج کل آن لائن کورسز، آڈیو لیکچرز، اور سادہ زبان میں رہنمائی دینے والے تعلیمی وسائل عام ہو چکے ہیں۔ کسی بھی عمر میں، اگر انسان اپنی رفتار خود طے کرے اور سیکھنے کے لیے ماحول تیار کرے تو نتائج آہستہ آہستہ سامنے آتے ہیں۔

پیغام جو ہر عمر کے لیے ہے

اَمل کی مثال ہمیں بتاتی ہے کہ علم کی خواہش عمر کے ساتھ نہیں مرجھاتی۔ یہ وہ قوت ہے جو دل کو متحرک رکھتی ہے، سوچ کو وسیع کرتی ہے، اور زندگی کو معنی دیتی ہے۔ ان کی کہانی ان لوگوں کے لیے خاص طور پر حوصلہ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔

آخر میں، اَمل کی زندگی ایک سادہ مگر طاقتور حقیقت سامنے لاتی ہے: تعلیم کی شروعات کبھی “ختم” نہیں ہوتی۔ ضرورت صرف نیت، صبر، اور مسلسل کوشش کی ہوتی ہے—اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی تصویر نے سوشل میڈیا پر صرف ایک لمحہ نہیں بلکہ ایک تحریک کی صورت اختیار کر لی ہے۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0
ویب ڈیسک

Daily Nijaat Web Desk

Comments (0)

User