<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
     xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
     xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
     xmlns:admin="http://webns.net/mvcb/"
     xmlns:rdf="http://www.w3.org/1999/02/22-rdf-syntax-ns#"
     xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
     xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/">
<channel>
<title>Daily Nijaat &#45; : کالم  اور تجزیہ</title>
<link>https://dailynijaat.com/rss/category/کالم-اور-تجزیہ</link>
<description>Daily Nijaat &#45; : کالم  اور تجزیہ</description>
<dc:language>ur</dc:language>
<dc:rights>Copyright 2026 Daily Nijaat &#45; All Rights Reserved.</dc:rights>

<item>
<title>پاکستان میںٹرانس شپمنٹ کارگو کی آمد</title>
<link>https://dailynijaat.com/1394</link>
<guid>https://dailynijaat.com/1394</guid>
<description><![CDATA[ صدر ٹرمپ نے اپنا وفد اسلام آباد بھیجنے کا اعلان کیا لیکن ایران نے مذاکراتی وفد روانہ کرنے کے سلسلے میں کوئی عندیہ نہ دیا۔ ]]></description>
<enclosure url="https://img.express.pk/media/images/2722337-abdulhameed-1728587214/2722337-abdulhameed-1728587214-600x450.webp" length="49398" type="image/jpeg"/>
<pubDate>Fri, 24 Apr 2026 12:39:15 +0500</pubDate>
<dc:creator>WebDesk</dc:creator>
<media:keywords>پاکستان, میںٹرانس, شپمنٹ, کارگو, کی, آمد</media:keywords>
<content:encoded><![CDATA[<p>امریکا،اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ بندی22اپریل2026 کی صبح تک مؤثر تھی۔خیال کیا جا رہا تھا کہ دونوں فریقوں کے مابین مذاکرات ہوں گے اور مسئلے کا کوئی حل نکل آئے گا۔مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو ہر لحاظ سے تیار کیا گیا تھا۔صدر ٹرمپ نے اپنا وفد اسلام آباد بھیجنے کا اعلان کیا لیکن ایران نے مذاکراتی وفد روانہ کرنے کے سلسلے میں کوئی عندیہ نہ دیا۔پاکستان کی کوششوں سے ایران نے آبنائے ہرمز کھولی لیکن امریکا نے ایران کے اردگرد پانیوں میں بحریہ متعین کر کے ایران کی بحری ناکہ بندی کر دی۔یوں ایران کی تیل و گیس سے ہونے والی آمدن ٹھپ ہو گئی۔ یہ ایران کے لیے زندگی اور موت کے معاملے کی طرح ہے۔جب مقررہ آخری وقت تک ایرانی وفد مذاکرات کے لیے نہ آیا تو صدر ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کی طرف سے درخواست کا کہہ کر جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کر دی۔دراصل امریکا اس جنگ سے تھک چکا ہے لیکن کمزوری بھی نہیں دکھانا چاہتا۔انھی کالموں میں پہلے کہا جا چکا ہے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔ایران پر اب شاید کبھی حملہ نہ ہو۔ اس جنگ سے امریکی سپر پاور کو شدید دھچکا لگا ہے۔اس کی ہوا اکھڑ گئی ہے۔وہ قابلِ اعتماد سیکیورٹی دینے والا ملک نہیں رہا۔ایران کے لیے ناکہ بندی اس کا گلہ دبانے کے برابر ہے۔امریکا اب پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران کو ڈیل کے لیے منائے۔پاکستان کو دامن بچانا ہوگا۔ جس طرح ہر سکے کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح ہر واقعے میں منفی اور مثبت پہلو پنہاں ہوتے ہیں۔امریکا،اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کی جس کے نتیجے میں خلیجی ممالک سے دوسرے ممالک کو تیل،گیس اور فرٹیلائزر و ایل این جی کی ترسیل بہت مشکل ہو گئی۔ اس نزاع کی بدولت ساری دنیا کی معیشت مشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔چونکہ جہازرانی سب سے زیادہ مشکلات سے دوچار ہوئی ہے اس لیے آپ نے خبروں میں پڑھا ہوگا کہ پاکستان کی بندرگاہوں پر بہت زیادہ تعداد میں کنٹینر کارگو آیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک خوش آئند بات ہے۔دراصل آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے وہاں کی بندرگاہوں تک جہازوں کا پہنچنا اور کارگو لے کر واپس لوٹنا تقریباً نا ممکن بن گیا تھا اس لیے جبلِ علی،خلیفہ پورٹ اور ہرمز سے ذرا باہر سلالہ کی بندر گاہوں سے جہازوں نے دوری اختیار کی اور اپنا رخ پاکستانی بندر گاہوں کی جانب موڑ دیا۔صرف ایک مارچ کے مہینے میں کراچی بندرگاہ میں کارگو ہینڈلنگ ایکٹوٹی میں 1400فیصد اضافہ ہوا۔یہ بڑھوتی پورے2025 کی ایکٹوٹی کے برابر ایک ماہ میں ہوئی۔ہمیں دیکھنا ہے کہ بڑھوتی کا یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رہ سکتا ہے یا پھر یہ ایک جز وقتی ابال تھا اور یہ برقرار نہیں رہے گا۔کراچی کی بندر گاہ ماضی قریب میں ہماری پالیسیوں کی بدولت ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر نہیں ابھری۔ہماری بندر گاہوں میں آنے والا کارگو دو قسم کا ہوتا ہے۔ایک ہمارا نیشنل کارگو اور دوسرا لینڈ لاکڈ پڑوسیوں مثلاً افغانستان اور سینٹرل ایشیائی ریاستوں کا کارگو۔ امریکا،ایران تنازعے میں ٹرانس شپمنٹ کارگو صرف ہمارے ہاں ہی نہیں آیا بلکہ یہ انڈیا کی بندرگاہوں کی طرف بھی گیا ہے۔حتیٰ کہ یہ کارگو سنگا پور تک پہنچا ہے،کراچی کی بندر گاہ پر چار پانچ جہازوں سے 8ہزار سے کچھ اوپر کنٹینرز اتارے گئے ہیں۔اسی طرح ایک بہت بڑا جہاز پورٹ قاسم پر بھی لنگر انداز ہوا جس سے 4ہزار سے اوپر کنٹینرز لائے گئے۔گوادر کی بندرگاہ پر بہت سا نان کنٹینر کارگو لایا گیا۔یہ بہت بڑی کارگو ایکٹوٹی لگتی ہے لیکن اصل میں یہ ہماری بندرگاہوں کی کارگو ہینڈلنگ صلاحیت کے حساب سے سال میں صرف دو دن کی ایکٹوٹی کے برابر ہے۔البتہ یہ کارگو اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ یہ ہماری بندر گاہوں کے لیے نیا کارگو ہے۔ یہ ہمارے نیشنل کارگو اور ٹرانزٹ کارگو سے ہٹ کر ٹرانس شپمنٹ کارگو ہے جو کہ پہلے نہیں آ رہا تھا۔اسے ایک جہاز سے اتار کر اور دوسرے جہاز میں لاد کر منزلِ مقصود کی طرف روانہ کر دیا جاتا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا کتنا امکان ہے کہ یہ عمل اب جاری رہے گا اور کنفلکٹ خاتمے پر ختم تو نہیں ہو جائے گا۔اس ایکٹوٹی کو جاری رکھنے کے کچھ ہارڈHardاور کچھ سافٹ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ہارڈ سے مراد انفراسٹرکچر ہے جیسے بندرگاہ،ٹرمینل اور ضروری مشینری اور سافٹ میں سافٹ ویئر وغیرہ۔اس کے علاوہ تربیت یافتہ لیبر بھی بہت اہم ہوتی ہے۔اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہارڈ اور سافٹ دونوں چیزیں پاکستان کے پاس دستیاب ہیں۔پاکستان کے پاس 4بہترین ٹرمینل ہیں جو علاقے میں بہترین ٹرمینلز کہے جا سکتے ہیں۔ ان چار بہترین ٹرمینلز کی صلاحیت سال میں 6ملین کنٹینرز ہینڈل کرنے کی ہے۔اس وقت ہمارے ٹرمینلز صرف سالانہ 3.8ملین کنٹینرز ہینڈل کر رہے ہیں جب کہ ابھی ہمارے پاس 2.2ملین کنٹینرز مزید ہینڈل کرنے کی صلاحیت باقی ہے۔990 کی دہائی کے آخری سالوں میں پاکستان نے ورلڈ بینک کا دیا ہوا ایک پورٹ ماڈل اختیار کیا جس میں سارا کارگو خود ہینڈل کرنے کے بجائے اسےSpecialized terminal operatorsکو آؤٹ سورس کر دیا گیا۔ ہمارے پاس چار ٹرمینلز،کراچی اور پورٹ قاسم پر ایک ایک بلکbulkٹرمینل ،کے علاوہ کیمیکل ٹرمینل،ایل این جی ٹرمینل اور ایل پی جی ٹرمینلز بھی ہیں۔ان میں سے بہت سے فارن کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ ونچرز ہیں جو بہترین مشینری اور بہترین سافٹ ویئر استعمال میں لاتے ہیں۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں سہولتیں اتنی ہی اچھی ہیں جتنی کہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں ہونی چاہیئیں۔ ہم جس تیزی،مہارت اور پھرتی سے کارگو لوڈ،ان لوڈ کر سکتے ہیں تقریباً وہی معیار دنیا کی ترقی یافتہ بندرگاہوں کا ہے۔جب ہماری بندر گاہوں پر ٹرانس شپمنٹ کارگو یک دم بڑی تعداد میں آنا شروع ہوا تو یار لوگوں نے تنقید کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا کہ بندر گاہوں پر شدید رش ہو گیا ہے اور انتظار کرتے جہازوں کی قطار لگ گئی ہے۔دراصل کراچی اور پورٹ قاسم پر بہترین سہولیات کی وجہ سے کوئی رش نہیں پڑا اور سارا کام بخوبی ہو رہا ہے۔ پاکستان نے سینٹرل ایشیائی ریاستوں کے لیے کارگو ایران کے راستے بھیجنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔افغانستان کے مقابلے میں ایران کے اندر انفراسٹرکچر بہت بہتر ہے۔سڑکیںاچھی ہیں،تیل سستا ہے اور ٹرانسپورٹ تیزی سے سفر کر سکتی ہے۔فاصلہ زیادہ ہے لیکن اچھے انفراسٹرکچر کی وجہ سے راستہ جلدی طے ہوتا ہے۔پاکستان کا مسئلہ مشکل ہمسائے اور بہت کم پاکستان ملکیتی جہاز ہونا ہے ۔ہمارے جہاز بہت تھے لیکن بھٹو صاحب کی نیشنلائزیشن کی بدولت سرمایہ کار بھاگ گئے اور اب ہمارے پاس کل بارہ کے قریب جہاز ہیں جن میں شاید سات تیل بردار ہیں۔ حکومت کو پرائیویٹ سیکٹرکی حوصلہ افزائی کر کے جہازوں کی تعداد کو جلد بڑھانا ہوگا۔ ہمارے پاس پورٹ انفراسٹرکچر بہت اعلیٰ ہے۔اس سیکٹر نے پچھلے دس سال میں دو بلین ڈالر کی فارن ڈائیریکٹ انویسٹمنٹ لائی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ سیکٹر مکمل ڈاکومنٹڈ ہے۔ لیبر کی تنخواہیں بھی زیادہ ہیں اور خواتین بھی اس سیکٹر میں کام کرنا شروع ہو گئی ہیں۔اس سیکٹر سے منسلک جید افراد پر مشتمل ایک کمیٹی نے جنگ کے دوران مسلسل تین ہفتے کام کرکے حکومت کو سفارشات بھیجیں جنھیں حکومت نے چند ہی دنوں میں منظور کر کے قوانین میں مناسب ردوبدل کر دیا ہے۔ اب حکومتی اداروں،بشمول نیشنل شپنگ کارپوریشن اور سفارت خانوں کو چاہیے کہ دنیا کی شپنگ کمپنیوں کو پاکستانی پورٹس پر پائی جانے والی سہولتوں سے آگاہ کریں تاکہ ٹرانس شپمنٹ کارگو ہمارے ہاں مسلسل آتا رہے۔</p>]]> </content:encoded>
</item>

<item>
<title>روشنی کا خواب، اندھیرے کی حقیقت</title>
<link>https://dailynijaat.com/1393</link>
<guid>https://dailynijaat.com/1393</guid>
<description><![CDATA[ دنیا بھر کی حکومتوں نے بجلی کے لیے اپنے دریاؤں کو ڈھال بنایا، اپنی صنعتی ترقی کو تیز تر بنانے کے لیے ڈیمز کا جال بچھایا ]]></description>
<enclosure url="https://img.express.pk/media/images/2727427-muhammadibrahimkhalil-1729272984/2727427-muhammadibrahimkhalil-1729272984-600x450.webp" length="49398" type="image/jpeg"/>
<pubDate>Fri, 24 Apr 2026 12:39:09 +0500</pubDate>
<dc:creator>WebDesk</dc:creator>
<media:keywords>روشنی, کا, خواب،, اندھیرے, کی, حقیقت</media:keywords>
<content:encoded><![CDATA[<p>شام ڈھل رہی تھی، آسمان پر سورج کا آخری سنہرا دھاگا کسی ادھوری نظم کی طرح لٹک رہا تھا۔ اچانک کمرے کی بجلی چلی گئی، پنکھا اسی لمحے یوں رکا جیسے کسی نے اس کی سانس روک دی ہو اور پھر مکمل خاموشی چھا گئی۔ یہ خاموشی محض آوازوں کی نہیں تھی ایک پورے عہد کی خاموشی تھی جس میں خواب، روزگار، امیدیں سب ایک ساتھ بجھ جاتی ہیں۔ بھوک، غربت، مزدور کا خالی ہاتھ، بچے کا بھوکا پیٹ، کارخانوں کی بندش یہ سب ایک ساتھ اُگ جاتے ہیں۔ یہ لوڈ شیڈنگ نہیں یہ اجتماعی دکھ ہے کیونکہ بجلی جب جاتی ہے تو صرف بلب نہیں بجھتا بلکہ ایک طالب علم کا مستقبل مدہم ہو جاتا ہے۔ ان دنوں کراچی کے ساڑھے تین لاکھ طالب علم لوڈ شیڈنگ کے باعث کیسے کیسے عذاب جھیل کر امتحان دے رہے ہیں، کتنے ہی اسکول ایسے ہیں جہاں پنکھے نہیں ہیں۔ ٹوٹی ہوئی ڈیسکوں پر بیٹھ کر گرمی سے بے حال، لوڈ شیڈنگ کا مقابلہ کرکے، پسینے سے شرابور پھر بھی مستقبل کی امید میں امتحان نہیں دے رہے بلکہ وہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب کے شدید امتحان سے گزر رہے ہیں۔ چند دنوں کے بعد انٹر کے بھی امتحانات شروع ہونے والے ہیں۔ اسی طرح پورے ملک کے طالب علم لوڈ شیڈنگ سے شدید متاثر ہونے کے باوجود امتحان کی اس منزل کو بھی پار کر رہے ہیں۔ ایک طرف طالب علم شدید پریشان ان کے ساتھ والدین بھی پریشان ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4000 میگا واٹ تک پہنچ چکا ہے۔ بعض جائزوں کے مطابق 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکا ہے جو کچھ بھی ہو فی الحال تو 7 سے 8 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ صنعتوں کو بھی بجلی کی طویل بندش کا سامنا ہے اور کارخانے جب خاموش ہو جاتے ہیں تو مشینیں نہیں روتیں بلکہ ان کے ساتھ جڑے مزدور روتے ہیں، کیونکہ ان کو اپنی دیہاڑی مرتی ہوئی نظر آتی ہے کیونکہ کارخانہ دار جب بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث مشینوں کی رفتار کھو دیتا ہے تو وہ آرڈر بھی کھو دیتا ہے۔ وہ بیرون ملک خریدار کا اعتماد کھو دیتا ہے، وہ اپنا منافع نہیں کھوتا وہ مزدور کی تنخواہ بھی کھو دیتا ہے اور جب مزدور بے روزگار ہوتا ہے تو اس طرح ملک بھر کی مشینیں جب رکتی چلی جاتی ہیں تو لاکھوں بے روزگاروں کی تعداد مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح پھر ملک میں بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، اگر بے روزگاروں کی تعداد میں اضافے کی بات کریں تو چند دن کے بعد ساڑھے تین لاکھ سے زائد طالب علم بے روزگاروں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہوں گے۔ یہ صرف کراچی سے میٹرک کا امتحان دینے والوں کی تعداد ہے اگرچہ یہ نویں اور دسویں دونوں کلاسوں کے اعداد و شمار ہیں۔ ان میں ہزاروں ایسے بھی ہیں جو فی الحال روزگار کے متلاشی نہیں ہوں گے کیونکہ ان کی منزل اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم ہے۔ کراچی کے علاوہ ملک بھر سے اسی طرح لاکھوں طالب علم جلد ہی بے روزگاروں کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے اور اس کی ایک ذمے داری لوڈ شیڈنگ پر بھی عائد ہوتی ہے، جو کارخانوں کو ویران کر رہی ہے، بے روزگاروں کو پریشان کر رہی ہے۔ معیشت ایک درخت کی مانند ہوتی ہے جس کی جڑیں پیداوار میں ہوتی ہیںجب بجلی نہیں ہوتی تو فیکٹریوں میں کام رک جاتا ہے، مشینیں ایک دم ساکت ہو جاتی ہیں، آرڈر اپنی وقعت کھو دیتے ہیں۔ برآمدات کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں، پھر ڈالرز کی کمی واقع ہوتی ہے اور ملک مالی مسائل سے گھرتا چلا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں نے بجلی کے لیے اپنے دریاؤں کو ڈھال بنایا، اپنی صنعتی ترقی کو تیز تر بنانے کے لیے ڈیمز کا جال بچھایا۔ بھارت پاکستان کی طرف آنے والے تمام دریاؤں کو کنٹرول کر رہا ہے اور ہم نے یہ حل ڈھونڈ نکالا کہ آئی پی پیز کے ذریعے مہنگی بجلی پیدا کر رہے ہیں اور ڈیمز کی تعمیر کو سیاست کی نذر کر رہے ہیں۔ شام جب بجلی چلی جاتی ہے تو اندھیروں کا ملک خوابوں کے چراغ جلانے لگتا ہے اور شہروں میں تو شام ایسے اترتی ہے جیسے کسی نے آسمان سے روشنی کا پردہ آہستہ سے کھینچ لیا ہو۔ گرمی کے موسم میں گرمی مزید شدید محسوس ہونے لگتی ہے کیونکہ بجلی کے آنے کا انتظار کا بوجھ بڑھنے لگتا ہے۔ انتظار سے زیادہ اس میں چھپی بے بسی اور بے یقینی کا بوجھ معلوم نہیں بجلی کب آئے گی اور پھر ہر اندھیرے کے بعد روشنی آتی ہے اور پھر جب اچانک بجلی آ جاتی ہے تو ہر ایک پکار اٹھتا ہے ’’شکر الحمداللہ‘‘۔ اندھیرے کی حقیقت یہ ہے کہ اس اندھیرے کو ہم مستقل روشنی میں بدل سکتے ہیں، اگر ہم سولر توانائی کو بھرپور انداز میں اپنائیں اور بڑے بڑے ڈیمز کو ترجیح دیں۔ 1970 سے پہلے بڑے ڈیمز بنانے کا عمل جاری تھا۔ اگرچہ نصف صدی گزر چکی اب بھی ہم بڑے ڈیمز کی تعمیر پر توجہ دیں۔ یہ فیصلے مشکل نہیں لیکن عزم، ہمت، حوصلہ اور بھرپور توجہ طلب ہیں۔ لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نے لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے غالباً 1980 سے یہ لوڈ شیڈنگ ہمارا مقدر بن چکی ہے۔ 45 برس گزر گئے ابھی تک ہم لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے گزر رہے ہیں اور روشنی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔</p>]]> </content:encoded>
</item>

<item>
<title>غیر ملکی قرضوں کا نہ ختم ہونے والا وبال</title>
<link>https://dailynijaat.com/1392</link>
<guid>https://dailynijaat.com/1392</guid>
<description><![CDATA[ پاکستان نے سعودی عرب کی مالی معاونت سے یو اے ای کا مزید دو ارب ڈالر کا قرض واپس کر دیا ہے ]]></description>
<enclosure url="https://img.express.pk/media/images/2724593-muhammadsaee_1728981076/2724593-muhammadsaee_1728981076-600x450.webp" length="49398" type="image/jpeg"/>
<pubDate>Fri, 24 Apr 2026 12:39:04 +0500</pubDate>
<dc:creator>WebDesk</dc:creator>
<media:keywords>غیر, ملکی, قرضوں, کا, نہ, ختم, ہونے, والا, وبال</media:keywords>
<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان نے سعودی عرب کی مالی معاونت سے یو اے ای کا مزید دو ارب ڈالر کا قرض واپس کر دیا ہے جس کے بعد زرمبادلہ ذخائر برقرار رہنے کا سرکاری اعلان کر دیا گیا ہے۔ اعلان کے مطابق رواں ہفتے ادائیگی کے بعد باقی ایک ارب ڈالر جمعرات کو ادا کر دیا جائے گا۔ امارات کو تین فی صد شرح پر دو سالہ رول اوور کا کہا گیا تھا مگر امارات نے دو ارب ڈالر 6.5 فی صد شرح پر صرف ایک ماہ کے لیے رول اوور کیے تھے اور پاکستان کی درخواست منظور نہیں کی تھی جس پر دوسرا برادر اسلامی ملک سعودی عرب ہی کام آیا جس نے زرمبادلہ ذخائر 15 ارب ڈالر برقرار رکھنے میں مدد کی جس کی وجہ سے امارات کے قرض کی واپسی ممکن ہو سکی اور پاکستان امارات کے قرض سے نجات پا سکا جو امارات نے پاکستان کو 6.5 فی صد سود پر دیے تھے اور اماراتی قرض پاکستان نے کہیں اور استعمال نہیں کیا تھا بلکہ وہ زرمبادلہ کے طور پر محفوظ تھا اور امارات ، پاکستان سے سب سے زیادہ سود وصول کر رہا تھا اور پاکستان یہ بھاری سود ادا کرنے پر مجبور تھا کیونکہ 15 ارب ڈالر زرمبادلہ کے لیے برقرار رہنا ضروری تھا ۔ وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا گیا ہے اور معاشی اشارے بہتر اور ریٹنگ مضبوط بنیاد پر برقرار قرار دی گئی ہے جس کے بعد آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ سے متوقع منظوری کے بعد قسط جاری کر دی جائے گی۔ نئی قسط ملنے کے بعد بھی حکومت آئی ایم ایف سے مزید قرض مانگنا بند نہیں کرے گی اور دیگر عالمی اداروں اور دوست ملکوں سے قرضوں کے حصول کا سلسلہ بند نہیں ہوگا اور ملک و قوم مزید مقروض ہوتے رہیں گے کیونکہ قرض ایک بار مانگنے کے بعد یہ عادت ختم نہیں ہو جاتی ،صرف پہلی بار کچھ شرمندگی ہوتی ہے اور پھیلے ہوئے ہاتھ میں قرض آ جائے تو اسے کامیابی سمجھا جاتا ہے اور انکار نہ ہونے سے ہمت بڑھ جاتی ہے اور مقروض مزید قرضوں کا عادی ہو جاتا ہے اور یہ مقروضوں کی فطرت ہے اور وہ یہ نہیں سوچتے کہ محدود وسائل میں یہ قرض واپس کیسے ہو سکے گا۔ مالی حالات خراب ہونے یا کسی وجہ سے اخراجات بڑھ جانے پر ہی قرض لینا مجبوری بن جاتا ہے اور عزت نفس کا تقاضا ہوتا ہے کہ اپنے اخراجات میں کسی نہ کسی طرح کمی کرکے کچھ بچت کرکے قرض اکٹھا نہیں تو کچھ نہ کچھ تو واپس کیا جائے ایسا نہیں ہوتا کہ کسی کا قرض سر پر چڑھا ہوا ہو اس کی ادائیگی کے لیے اپنے اخراجات کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہی باعزت طریقہ ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ پہلا قرض اتارنے کے لیے پرانے سود خور سے اس کی سخت شرط پر دوبارہ قرض مانگا جائے یا پھر کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلا کر قرض لیا جائے اور پہلے والے کو اس کا پہلا قرض واپس کیا جائے جس کی رقم میں سود شامل ہونے سے مزید اضافہ ہوچکا ہوتا ہے جس کی ادائیگی کے لیے مزید قرض سود پر لے کر پہلا قرض چکایا جائے تو اسے عقل مندی قرار دیا جاتا ہے نہ بے عزتی سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں سودی نظام کے خاتمے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سودی کاروبار ختم کرنے کی تجاویز اور فیصلہ دے چکی ہے جسے ماضی کی حکومتوں میں سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا مگر کیونکہ نازک شرعی مسئلہ ہے جس پر سالوں سے فیصلہ نہیں آ رہا اور جانے والے آنے والوں کے لیے یہ فیصلہ چھوڑ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے کم مدت رہنے والے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے جاتے جاتے اردو کو سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ دیا تھا جس میں شریعت بھی حائل نہیں تھی مگر انگریزی میں رعب جھاڑنے کی عادی بیورو کریسی نے کسی بھی حکومت سے یہ فیصلہ نہیں ہونے دیا اور اعلیٰ عدالتی حکم پر کسی حکومت نے عمل کیا اور سپریم کورٹ نے بھی اپنے فیصلے پر عمل کرانا ضروری نہیں سمجھا۔ہمارے مذہب میں سود کی انتہائی سختی سے ممانعت ہے اور سود لینے اور دینے کو گناہ قرار دیا گیا ہے اور پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس کے حکمران سودی کاروبار کے مخالف نہیں ۔ اسی لیے ریاست مدینہ کے قیام کے دعویدار ایک وزیر اعظم نے آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کی کوشش کی تھی مگر اس نے بھی آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر انھوں نے اپنی حکومت جاتی دیکھ کر بعض ایسے فیصلے کیے جس سے یہ عالمی ادارہ ناراض ہو گیا مگر چار سال قبل آنے والے موجودہ حکمرانوں نے سابق حکومت پر ملکی معیشت تباہ کرنے کے الزام میں آئی ایم ایف کو منتوں، ترلوں اور ان کی کڑی شرائط مان کر عالمی مالیاتی ادارے کو مزید قرض دینے پر آمادہ کیا جو ملک پر اپنی مرضی کے فیصلے بلکہ عوام دشمن فیصلے مسلط کرا کر بھی قسطوں میں قرض بڑا احسان کرکے سود پر دے رہا ہے اور وزیر خزانہ نے امریکا جا کر آئی ایم ایف کو اسٹاف لیول معاہدے پر راضی کر لیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف بتاتے رہے ہیں کہ کن خوشامدوں سے یہ قرض حاصل کیا جا رہا ہے کیونکہ قرضے لینا حکومت کی بھی مجبوری اس لیے بن چکی ہے کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے میں سنجیدہ نہیں بلکہ قرض لے کر فخر کرتی ہے۔</p>]]> </content:encoded>
</item>

<item>
<title>بھارت و بنگلہ دیش تعلقات: پاکستان کہاں کھڑا ہے ؟</title>
<link>https://dailynijaat.com/1391</link>
<guid>https://dailynijaat.com/1391</guid>
<description><![CDATA[ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم، شیخ حسینہ واجد، کے پندرہ سالہ دَورِ حکومت میںبنگلہ دیشی عوام اور بنگلہ دیشی سماج کی جو درگت بنی ، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ]]></description>
<enclosure url="https://img.express.pk/media/images/2714693-TanveerQaise_1728914306/2714693-TanveerQaise_1728914306-600x450.webp" length="49398" type="image/jpeg"/>
<pubDate>Fri, 24 Apr 2026 12:38:58 +0500</pubDate>
<dc:creator>WebDesk</dc:creator>
<media:keywords>بھارت, بنگلہ, دیش, تعلقات:, پاکستان, کہاں, کھڑا, ہے</media:keywords>
<content:encoded><![CDATA[<p>بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم، شیخ حسینہ واجد، کے پندرہ سالہ دَورِ حکومت میںبنگلہ دیشی عوام اور بنگلہ دیشی سماج کی جو درگت بنی ، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کسی نے اُس دَور کی اجتماعی بنگلہ دیشی شکل ملاحظہ کرنی ہو تو آج کی بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کی معروف رکن ، بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان، کی شائع ہونے والی تازہ کتاب( اندھیری جیل کا قیدی) کا مطالعہ کرلے ۔ سب چانن ہو جائے گا۔ شیخ حسینہ واجد کے متنوع مظالم ، استحصالی قوانین اور بھارت کی جانب بے تحاشہ جھکاؤ سے بغاوت کرتے ہُوئے بنگلہ دیشی طلبا و نوجوان طبقہ نے ’’عوامی لیگ‘‘ اور حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا ۔ یہ غیر معمولی واقعہ اگست2024 کو وقوع پذیر ہُوا ۔ تختہ اُلٹنے کی تحریک میں مبینہ طور پر1400 بنگلہ دیشی نوجوان قتل کر دیے گئے ۔ اِن سانحات کی تمام ذمے داری شیخ حسینہ واجد اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ پر عائد کی گئی۔ حکومت کے خاتمے پر حسینہ واجد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر اپنے محسن ملک ، بھارت، میں پناہ گزیں ہو گئیں ۔ اب تک وہیں ہیں ۔ متنوع اور سنگین الزامات کے تحت بنگلہ دیشی عدالت حسینہ واجد کو سزائے موت بھی سنا چکی ہے ۔بنگلہ دیش میں پروفیسر محمد یونس کی سابقہ عبوری حکومت نے متعدد بار بھارت سے مطالبہ کیا تھا کہ حسینہ واجد کو ہمارے حوالے کیا جائے ، مگر مودی حکومت نے یہ مطالبہ ماننے سے صاف انکار کر دیا ۔ حسینہ واجد کی حکومت ختم ہونے کے بعد نوبل انعام پانے والے معروفِ عالم بنگلہ دیشی پروفیسر محمد یونس کی عبوری حکومت قائم کی گئی ۔ اُن کی18 ماہانہ حکومت کے دوران بھارت و بنگلہ دیش تعلقات نچلے درجے پر دیکھے گئے ۔ اِسی عرصے میں پاکستان و بنگلہ دیش تعلقات نئی بلندیوں پر پائے گئے ۔ اور اِسی دوران کئی بنگلہ دیشی عسکری شخصیات نے بھی پاکستان کے دَورے کیے۔ پاک ، بنگلہ دیش سفارتی و تجارتی تعلقات میں خاصا اضافہ ہُوا ۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ مناظر خاصے تکلیف دِہ تھے ، مگر اُس نے خاموش رہ کر بنگلہ دیش سے اپنے تعلقات کو بالکل ہی منقطع نہ ہونے دیا ۔ کشیدہ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے بھارتی وزیر خارجہ ، جے شنکر، ڈھاکہ میں اُس وقت پُر جوش انداز میں دیکھے گئے جب سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم ( خالدہ ضیاء) کا (یکم جنوری 2026کو) جنازہ اُٹھا ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ جے شنکر کی مذکورہ شرکت اِس امر کا عندیہ ہے کہ بھارت کسی بھی طور بنگلہ دیش کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیںدینا چاہتا اور نہ ہی یہ چاہتا ہے کہ وہ پکے ہُوئے پھل کی طرح پاکستان کی گود میں جا گرے ۔ جب کہ پاکستان کا شائد یہ خیال تھا کہ پروفیسر یونس کی عبوری حکومت کے دوران پاک ، بنگلہ دیش تعلقات میں جو شاندار اُبھار آیا ہے ، یہ یونہی برقرار رہے گا ۔ ایسا مگر نہیں ہو سکا ہے ۔ ہم مشاہدہ کررہے ہیں کہ فروری2026 کو بنگلہ دیش میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے بعد جونہی BNPکی حکومت آئی اور (خالدہ ضیاء مرحومہ کے صاحبزادے) جناب طارق رحمن بنگلہ دیش کے وزیر اعظم منتخب ہُوئے ،بھارت اور بنگلہ دیش کی قربتوں میں پہلے کی طرح پھراضافہ ہونے لگا ہے ۔ یاد رہے یہ بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی ، ہی تھے جنھوں نے طارق رحمن صاحب کی جماعت کی بھاری اکثریت سے کامیابی پر ( پاکستان سے پہلے) طارق رحمن کو انتخابی فتح کی مبارکباد دی تھی ۔طارق رحمن کی حکومت بنتے ہی بنگلہ دیش کے نئے وزیر خارجہ ، خلیل الرحمن ، نے سب سے پہلے بھارت کا 2 روزہ دَورہ کیا ہے۔ یہ دَورہ8 اپریل2026 کو عمل میں آیا ۔خلیل الرحمن نے اِس وِزٹ کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور مودی کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ، اُجیت ڈووَل، (جو پاکستان دشمنی میں خاصے معروف و مشہور ہیں) سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ خلیل الرحمن نے بھارتی وزیر پٹرولیم ، ہر دیپ سنگھ پوری، سے بھی مفصل ملاقاتیں کیں۔ بھارتی میڈیا بامسرت اعتراف کررہا ہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے اور پروفیسر یونس کی عبوری حکومت کے دوران بنگلہ دیشی و بھارتی حکومت میں عدم اعتماد کے جو کئی بحران دَر آئے تھے ، اب طارق رحمن کی حکومت کے آتے ہی اِن بحرانوں کا دھیرے دھیرے خاتمہ ہو رہا ہے ۔ از سرِ نَو تعلقات میں مضبوطی آ رہی ہے۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیشی وزیر خارجہ ، خلیل الرحمن، نے بھارتی وزیر پٹرولیم سے دانستہ جو تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں ، اُن کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مارچ میں بھارت نے طارق رحمن کی بنگلہ دیشی حکومت کو، دو اقساط میں، 15ہزار ٹن پٹرول و ڈیزل فراہم کیا۔ اپریل2026میں بھارت مزید 40ہزار ٹن ڈیزل بنگلہ دیش کو فراہم کرنے کا اعلان کر چکا ہے ۔ ایران ، امریکا و اسرائیل جنگ کے دوران پیدا ہونے والے شدید توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے بنگلہ دیش نے بھارتی اعانت کا سہارا لیا ۔ اِس بروقت بھارتی احسان کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ بھارت و بنگلہ دیش بگڑے سفارتی تعلقات و روابط میں پھر سے بحالی کا آغاز ہو چکا ہے ۔ بنگلہ دیشی دارالحکومت ، ڈھاکہ ، سے شائع ہونے والے معروف انگریزی اخبار ’’دی ڈیلی اسٹار‘‘ نے 9اپریل2026کو خبر دی ہے کہ بنگلہ دیش ریلویز 200 کی تعداد میں بھارت سے بنے بنائے ریل ڈبے (Coaches)خرید رہی ہے ۔ بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میںاِس کا باقاعدہ اعلان بنگلہ دیش کے وزیر ریلوے ، شیخ ربیع العالم، نے کیا ۔ بھارت یہ آرڈر دسمبر2027 تک مکمل کرے گا۔اِس بھاری بھر کم سودے کے اخراجات ’’یورپین انویسٹمنٹ بینک‘‘ برداشت کرے گا۔ اور مذکورہ بینک نے یہ رقم بنگلہ دیش کو قرض میں دی ہے۔ مالی فائدہ مگر بھارت کو پہنچے گا۔ اِسی طرح کرکٹ کے میدان میں بھارت و بنگلہ دیش تعلقات میں جو دراڑ پڑ گئی تھی ، اُسے بھی درست کیا جارہا ہے ۔ اِس کے لیے بھی طارق رحمن کی بنگلہ دیشی حکومت نے ہی بھارت کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے ۔ اب تعلقات کی بحالی کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو خط لکھ دیا ہے ۔ اِس خط میں BCBکے ڈائریکٹر آپریشنز ، نظم العابدین فہیم، نے اِس خواہش کا برملا اظہار کیا ہے کہ ’’ ستمبر 2026 میں بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم شیڈول کے مطابق بھارت میں کھیلنے کے لیے آنا چاہتی ہے ۔‘‘ یوں بھارت و بنگلہ دیش قربتوں کا ایک اور موقع آیا ہے ۔ لگتا یہی ہے کہ بنگلہ دیش چاہتے ہُوئے بھی بھارت سے کامل نجات حاصل نہیں کر سکتا کہ متعدد شعبوں میں بنگلہ دیش ہر پہلو سے بھارت پر انحصار کرتا ہے ۔ دریائے ’’ٹیسٹا‘‘ کے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم پر بنگلہ دیش کی بھارت سے ناراضی نمایاں ہے۔ بھارت میں بنگلہ دیشی شہریوں اور بنگالی زبان بولنے والوں سے جو غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے ، اِس منظر سے بھی بنگلہ دیشی عوام بھارت سے خاصے ناخوش ہیں۔ بنگلہ دیشیوں کے لیے بھارتی ویزہ پالیسی بھی برابری اور انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ بھارتی BSF( بارڈر سیکیورٹی فورسز) کے مسلح اہلکار آئے روز بنگلہ دیش و بھارت کی مشترکہ سرحد پر بنگلہ دیشی شہریوں کو بے جا طور پر قتل کر ڈالتے ہیں اور بنگلہ دیش احتجاج ہی کرتا رہ جاتا ہے ۔ 11اپریل 2026 کو تقریباً تمام بھارتی اخبارات نے یہ خوفناک خبر شائع کی ہے: ’’ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل نے بھارت ، بنگلہ دیش سرحد پر تعینات اپنے جملہ ماتحتوں کو حکم دیا ہے کہ اِس امر کا جائزہ لیں کہ بھارت و بنگلہ دیش کی مشترکہ سرحد کے درمیان بہنے والے دریاؤں اور ندی نالوں میں اگر زہریلے سانپ اور خونخوار مگر مچھ چھوڑ دیے جائیں تو کیا اِس اقدام سے بنگلہ دیشیوں کو بھارت میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے ؟۔‘‘اِس پر ایک بھارتی صحافی ( سنجیو کرشن سُوڈ) نے لکھا کہ ’’ سوال یہ ہے کہ اِس مہلک زہریلی مخلوق کو بھارتی شہریوں کو کاٹنے سے کیسے منع کیا جائے گا ؟۔‘‘</p>]]> </content:encoded>
</item>

<item>
<title>خدا پاکستان کی حفاظت کرے</title>
<link>https://dailynijaat.com/1390</link>
<guid>https://dailynijaat.com/1390</guid>
<description><![CDATA[ امریکا نے ایران کو بہت ہلکا لیا تھا، اس نے سوچا تھا کہ ایران بھی وینزویلا کی طرح اس کے لیے تر نوالہ ثابت ہوگا، لیکن ایسا ہوا نہیں۔ ]]></description>
<enclosure url="https://img.express.pk/media/images/2722308-RaeesFatimaNEW-1728586265/2722308-RaeesFatimaNEW-1728586265-600x450.webp" length="49398" type="image/jpeg"/>
<pubDate>Fri, 24 Apr 2026 12:38:52 +0500</pubDate>
<dc:creator>WebDesk</dc:creator>
<media:keywords>خدا, پاکستان, کی, حفاظت, کرے</media:keywords>
<content:encoded><![CDATA[<p>ساری دنیا نے امریکا، ایران جنگ رکوانے میں پاکستان کا ثالثی کا کردار سراہا، دنیا کی واحد سپرپاور کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو گیا، پہلے راؤنڈ میں کامیابی کا تناسب بہت کم تھا، ایسے دو ممالک جیسے ایک بھیڑیا اور دوسرا بھیڑ ہو، جنگ بندی کرانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ جنگیں کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتیں، جنگ کی ضرورت صرف اسلحہ ساز کمپنیوں کو ہوتی ہے، یہ اسلحہ کے سوداگر امن کے خواہاں کبھی نہیں ہو سکتے۔ ایسے دو ممالک جو 47 سال سے ایک دوسرے کے دشمن ہوں ان کا ایک ٹیبل پر مذاکرات کے لیے دوبدو بیٹھنا ہی ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ اتنی طویل دشمنی کے بعد اگر کوئی یہ سمجھ بیٹھا کہ دونوں ممالک دوستانہ ماحول میں ایک دوسرے کو تسلیم کریں گے تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہوگی۔ امریکا کی طرف سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ وہ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ دراصل دونوں ملکوں کو ’’کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کی پالیسی پر کاربند ہونا چاہیے۔ لیکن ان دونوں ممالک میں ’’انا کا ٹکراؤ‘‘ بنیادی مسئلہ ہے۔ دونوں ممالک اپنے عوام کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جنگ انھوں نے جیتی ہے، ہارنا کوئی بھی پسند نہیں کرے گا لیکن جب دونوں ممالک جیت کے خواہاں ہیں تو ’’ہارنا‘‘ کس کے مقدر میں لکھا ہے۔ ہم جس دور میں جی رہے ہیں جہاں انسان نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ انسان نے چاند پر قدم رکھ دیا، خلائی تحقیق نے پوری دنیا کو ’’گلوبل ولیج‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی لوگ جنگوں کے ذریعے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں، جنگوں نے دنیا کو صرف بربادی دی ہے، انسانی خون ارزاں ہو جاتا ہے، عمارتیں دھوئیں کے بادلوں میں چھپ جاتی ہیں، لاتعداد لوگ جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں جسمانی طور پر معذور ہو جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے میں اسرائیل کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے پر عمل پیرا ہے اس نے فلسطین، غزہ اور ایران میں دہشت گردی پھیلا رکھی ہے۔ امریکا نے ایران کو بہت ہلکا لیا تھا، اس نے سوچا تھا کہ ایران بھی وینزویلا کی طرح اس کے لیے تر نوالہ ثابت ہوگا، لیکن ایسا ہوا نہیں۔ ایران کی سرکردہ لیڈرشپ ختم ہو گئی لیکن نہ تو رجیم چینج ہوا نہ ایران نے ہتھیار ڈالے بلکہ امریکا کو ایران نے ناکوں چنے چبوا دیے، جس سے مسلم دنیا بہت خوش ہے۔ امریکی حملوں میں ایران کے کئی شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے لیکن ایران میں نہ انارکی پھیلی نہ رجیم چینج ہوا نہ ایران کے حکمران لڑکھڑائے نہ خوفزدہ ہوئے۔ عالمی مبصرین کی اکثریت کہہ رہی ہے کہ امریکا جنگ ہار گیا کیونکہ وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ امریکا نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ یوں سربازار رسوا ہوگا۔ پہلے دور کے مذاکرات سے امریکا یوں پیچھے ہٹا ہے کہ وہ بڑی طاقت ہے۔ کافی باتوں پر اتفاق ہو چکا ہے۔ جنرل عاصم منیر، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی کوششوں سے پندرہ روزہ جنگ بندی ہوئی اور اسرائیل کو بھی منہ کی کھانی پڑی۔ انشا اللہ پاکستان کا یہ سفارتی اعزاز برقرار رہے گا۔ بھارت کو پاکستان کا یہ اعزاز ایک آنکھ نہیں بھا رہا جب کہ بیشتر بھارتی صحافیوں نے پاکستان کی تعریف کی ہے۔ 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے دوران 6 اور 9 اگست کو انسانی تاریخ کا سب سے شرمناک واقعہ پیش آیا، جو آج بھی تاریخ کا بدترین دن مانا جاتا ہے۔ اس دن امریکا نے جاپان کے شہر ناگاساکی اور ہیروشیما میں ایٹم بم گرائے تھے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دو سے تین لاکھ کے درمیان لوگوں کی جان لی۔ آج اس دن کے بارے میں سوچا جاتا ہے تو آنکھوں سے آنسو امڈ پڑتے ہیں کہ کیا ایسے انسان بھی ہو سکتے ہیں جو لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جان منٹوں میں لے لیتے ہیں۔ اس واقعے نے پوری انسانیت کے دَر و دیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایٹمی بمباری کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے معصوم لوگوں کے جسموں سے گوشت پگھلنے لگا۔ اس دن کو تاریخ میں سیاہ ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ اس بمباری کی وجہ سے آج بھی ناگاساکی اور ہیروشیما میں لوگ پیدا ہوتے ہیں تو ان میں عموماً کوئی نہ کوئی جسمانی نقص پایا جاتا ہے۔ ایٹم بم انسانیت کے لیے انتہائی تباہ کن ہے جب بھی اس کا استعمال ہوا ہے ہمیشہ اس نے تباہی مچائی۔ وہی امریکا جو آج دعوے کرتا ہے کہ وہ ہم سب سے زیادہ انسانیت کے حق میں ہے اس نے 1945 میں سب سے زیادہ انسانوں کو قتل کیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدہ صورت حال میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے جہاں وہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کے ذریعے مسلسل پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دوسرے دور کی میزبانی کی پیشکش بھی کی ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ، ایران پر عائد پابندیوں کی منسوخی اور نقصانات کا ازالہ کرنا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے جس پر ایران مکمل کنٹرول کا اصرار کر رہا ہے۔ پاکستان اور ایران دونوں برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے درمیان گہرے تاریخی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ تاہم سرحدی سیکیورٹی اور گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں پر کبھی کبھار اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان امریکا کا بھی اتحادی رہا ہے۔ خاص طور پر سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں۔ تاہم حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن لانے کی کوشش کی ہے۔ امریکا اور ایران کے تعلقات ایرانی انقلاب کے بعد سے سخت کشیدہ ہیں۔ پاکستان کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنی حکمت عملی پر توجہ دے اور اسے برقرار رکھتے ہوئے اپنے پڑوسی ملک ایران کے ساتھ بھی بہتر تعلقات قائم رکھے۔ یہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چلیے جناب پاکستان کا وقار دنیا میں بلند ہو گیا ہے۔ اب جناب شہباز شریف کو ملک کے داخلی معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ بہت تعریفیں ہو گئیں، کیا ہی اچھا ہو کہ ملک کے داخلی معاملات سلجھانے پر بھی اتنی ہی تعریفیں ملیں جتنی کہ ایران، امریکا جنگ رکوانے پر ملی ہیں۔ ان معاملات میں سب سے نمایاں ’’مہنگائی‘‘ ہے۔ امریکا ایران جنگ شروع ہوتے ہی وزیر اعظم نے 55 روپے فی لیٹر بڑھا دیے اور پھر بعد میں مزید اضافہ کرکے عام انسان کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا۔پٹرول مہنگا کر کے پٹرول کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا، ہر چیز کی قیمت دوگنی ہو گئی۔ جہاں پٹرول کا عمل دخل تک نہ تھا وہاں بھی قیمت بڑھا دی گئی، عام آدمی کی سانسیں رک گئی ہیں، غریب اور متوسط طبقہ بے حال ہے، بیوروکریٹ عیاشی کر رہے ہیں، ارکان اسمبلی مزے لوٹ رہے ہیں۔ معیشت پاکستان کا سب سے بڑا داخلی مسئلہ بن چکا ہے، مہنگائی کا گراف اوپر جانے سے روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوامی سطح پر مایوسی پھیلائی ہے۔ ملک کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے جس کے لیے پاکستان کو بار بار عالمی مالیاتی اداروں (IMF) سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ یہ ملک امیروں، وڈیروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے لیے بنا ہے۔ اسی لیے مہنگائی کم کرنے کی کبھی بات نہیں ہوتی۔ شہباز شریف صاحب نے پاکستان کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کافی اچھی شہرت کمائی تھی۔ ان کے وزیر اعظم بننے پر میرا خیال تھا کہ وہ ملک میں مہنگائی کو کم کریںگے، بے روزگاری کو دور کریں گے، لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔  حیرت اس بات پر ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور دہشت گردی نے طوفان اٹھا رکھا ہے۔ اب لوگ گن کر روٹیاں پکاتے ہیں، آدھا پیٹ کھاتے ہیں، بچوں کو بھی پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا۔ میرے گھر جو ملازمہ کام کرتی ہے اس کی عمر تقریباً پچاس سال ہے تین بیٹیاں ہیں بہت دور سے کام پر آتی ہے اور مختلف گھروں میں ملنے والے کھانے کو احتیاط سے لے کر جاتی ہے تاکہ پیٹ بھر سکیں، جس دن کہیں سے کھانا نہیں ملتا اس دن وہ صرف چار روٹیاں پکاتی ہے کبھی سبزی سے کھاتی ہے، کبھی چٹنی سے۔ خدارا وزیر اعظم صاحب لوگوں پر رحم کیجیے اور مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کر دیجیے۔</p>]]> </content:encoded>
</item>

<item>
<title>پنجاب کی جامعات: خودمختاری یا ٹھیکیداری(نویں قسط)</title>
<link>https://dailynijaat.com/679</link>
<guid>https://dailynijaat.com/679</guid>
<description><![CDATA[ اس عنوان کے تحت لکھے گئے کالموں کی سیریز میںگزشتہ قسط کےذریعے جامعات میں ترقی کے غیر منصفانہ نظام اور میرٹ کی پامالی جیسے اہم مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مگر اگر ہم اس بحران کی گہرائی میں جائیں تو ایک اور نہایت بنیادی اور فیصلہ کن خرابی سامنے آتی ہے اور وہ قومی سطح پر تعلیمی سمت کا فقدان اور نصاب کی غیر معیاری تشکیل ہے۔ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم کے ادارے بڑی حد تک اپنی مرضی سے نصاب تشکیل دیتے ہیں جس کے باعث نہ صرف یکسانیت کا فقدان پیدا ہوتا ہے بلکہ یہ نصاب کسی بھی طور پر عالمی تقاضوں اور صنعتی ضروریات سے بھی ہم آہنگ نہیں ہوتا، نتیجتاً جامعات سے فارغ التحصیل طلبہ عملی میدان میں مطلوبہ مہارتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی، معیشت، اور صنعتی ڈھانچے میں آنے والی تبدیلیوں نے تعلیم کے تقاضوں کو بھی یکسر بدل دیا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ پاکستان کا اعلیٰ تعلیمی نظام بھی ان عالمی رجحانات کے مطابق خود کو ڈھالے۔ اس ضمن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارا نظام...
The post پنجاب کی جامعات: خودمختاری یا ٹھیکیداری(نویں قسط) first appeared on Daily Qaum. ]]></description>
<enclosure url="https://dailyqaum.com/wp-content/uploads/2024/04/Mian-Ghaffar.jpg" length="49398" type="image/jpeg"/>
<pubDate>Wed, 22 Apr 2026 18:15:19 +0500</pubDate>
<dc:creator>WebDesk</dc:creator>
<media:keywords>پنجاب, کی, جامعات:, خودمختاری, یا, ٹھیکیدارینویں, قسط</media:keywords>
<content:encoded><![CDATA[<p class="has-text-align-right"><span style="font-size: 14pt;">اس عنوان کے تحت لکھے گئے کالموں کی سیریز میںگزشتہ قسط کےذریعے جامعات میں ترقی کے غیر منصفانہ نظام اور میرٹ کی پامالی جیسے اہم مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مگر اگر ہم اس بحران کی گہرائی میں جائیں تو ایک اور نہایت بنیادی اور فیصلہ کن خرابی سامنے آتی ہے اور وہ قومی سطح پر تعلیمی سمت کا فقدان اور نصاب کی غیر معیاری تشکیل ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم کے ادارے بڑی حد تک اپنی مرضی سے نصاب تشکیل دیتے ہیں جس کے باعث نہ صرف یکسانیت کا فقدان پیدا ہوتا ہے بلکہ یہ نصاب کسی بھی طور پر عالمی تقاضوں اور صنعتی ضروریات سے بھی ہم آہنگ نہیں ہوتا، نتیجتاً جامعات سے فارغ التحصیل طلبہ عملی میدان میں مطلوبہ مہارتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی، معیشت، اور صنعتی ڈھانچے میں آنے والی تبدیلیوں نے تعلیم کے تقاضوں کو بھی یکسر بدل دیا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ پاکستان کا اعلیٰ تعلیمی نظام بھی ان عالمی رجحانات کے مطابق خود کو ڈھالے۔ اس ضمن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارا نظام تعلیم ایک واضح اور مربوط قومی تعلیمی سمت کا تعین کرے، جو بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی گئی ہو۔ نصاب کو اس انداز میں ازسر نو ڈیزائن کیا جائے کہ وہ نہ صرف عالمی معیار پر پورا اترے بلکہ مقامی صنعتی کی ضروریات سے بھی ہم آہنگ ہو۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">تعلیم کو صرف نظریاتی دائرے تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اور تجرباتی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ طلبہ کو محض کتابی علم دینے کے بجائے انہیں حقیقی مسائل کے حل، انٹرن شپس اور بین الشعبہ جاتی سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ عملی میدان میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">اس مقصد کے لیے ایک مضبوط اور بااختیار نصاب بورڈ تشکیل دیا جانا چاہیےجس میں ملکی اور غیر ملکی ماہرین تعلیم، صنعت سے وابستہ پروفیشنلز، انٹرنیشنل اور دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے تجربہ کار اکیڈمیشنز شامل ہوں۔ یہ بورڈ نہ صرف نصاب کی تیاری کرے بلکہ اس کے مؤثر نفاذ کو بھی یقینی بنائے تاکہ جامعات کو مکمل طور پر اپنی صوابدید پر چھوڑنے کے بجائے ایک متوازن اور معیاری نظام قائم کیا جا سکے۔ مزید یہ کہ نصاب کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور اسے وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جائے۔ اس عمل میں انڈسٹری کے ماہرین اور اکیڈمک کونسلز کو شامل کیا جائے تاکہ تعلیم اور عملی دنیا کے درمیان موجود خلا کو پر کیا جا سکے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">بدقسمتی سے موجودہ نظام میں نصاب کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے نہ تو کوئی واضح سمت موجود ہے اور نہ ہی مؤثر نگرانی کا نظام۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری جامعات عالمی سطح پر مسابقت میں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں اور ہمارے گریجویٹس کو روزگار کے مواقع حاصل کرنے میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم نے اس بنیادی مسئلے کو حل نہ کیا تو محض انتظامی اصلاحات یا ترقی کے نظام میں تبدیلی سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ ایک مضبوط، جدید، اور عالمی معیار کے مطابق نصاب ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک کامیاب تعلیمی نظام قائم ہو سکتا ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">یہاں متعلقہ حکومتی اداروں سے بھی سوال ہے کہ آیا ہم اپنی جامعات کو واقعی عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے سنجیدہ بھی ہیں، یا پھر انہیں بدستور ایک بے سمت اور غیر مربوط نظام کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھنا ہے؟</span></p>
<p></p>
<p><span style="font-size: 14pt;">The post <a rel="nofollow" href="https://dailyqaum.com/%D9%BE%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AA-%D8%AE%D9%88%D8%AF%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DB%8C%D8%A7-%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DA%A9%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1-4/">پنجاب کی جامعات: خودمختاری یا ٹھیکیداری(نویں قسط)</a> first appeared on <a rel="nofollow" href="https://dailyqaum.com/">Daily Qaum</a>.</span></p>
<p></p>]]> </content:encoded>
</item>

<item>
<title>جنم، قلم اور اظہار الم</title>
<link>https://dailynijaat.com/542</link>
<guid>https://dailynijaat.com/542</guid>
<description><![CDATA[ بالی وڈ کے لیجنڈری اداکار عرفان خان نے کیا خوب اور زبردست جملہ بولا تھا کہ ’’جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘‘ زندگی میں بارہا اس تلخ جملے کو حقیقت بنتے دیکھا اور ہر بار د ل کرچی کرچی ہو جاتا ہے۔اخبار کی کاپی طباعت کیلئے پرنٹنگ پریس جانے میں کچھ دیر باقی تھی۔ اسی دوران کمپیوٹر پر آن واٹس ایپ پر نظر پڑی تو مختلف صحافتی گروپس میں یہ میسج گردش کررہا تھا کہ’’ ملتان پریس کلب کے سینئر و اہم رکن اظہار علی عباسی فالج کے اٹیک سے نشتر ہسپتال وارڈ نمبر 7 میں داخل ہیں، حالت تشویش ناک ہے۔ سب دوستوں سے تعاون اور دعاؤں کی درخواست ہے۔‘‘ یہ میسج ان کے کزن کی جانب سے شیئر کیا گیا تھا۔ دل و دماغ کو ایک جھٹکا سا لگا کہ یہ کیسے ہو گیا۔میں نے اپنے ساتھی سینئر صحافی عبدالحئی بلوچ کو زور سے پکار کر پکار کر یہ اطلاع دی تو وہ بھی سن کر ہکا بکا رہ گئے۔ کچھ ہی دیر میں واٹس ایپ اور فیس بک پرہرطرف اظہار عباسی صاحب پر فالج کے اٹیک کی اطلاع گردش کر رہی تھی۔ ان کے ہزاروں چاہنے والے اس خبر سے...
The post جنم، قلم اور اظہار الم first appeared on Daily Qaum. ]]></description>
<enclosure url="https://dailyqaum.com/wp-content/uploads/2024/12/dastagir.jpeg" length="49398" type="image/jpeg"/>
<pubDate>Tue, 21 Apr 2026 23:08:02 +0500</pubDate>
<dc:creator>WebDesk</dc:creator>
<media:keywords>جنم،, قلم, اور, اظہار, الم</media:keywords>
<content:encoded><![CDATA[<p class="has-text-align-right"><span style="font-size: 14pt;">بالی وڈ کے لیجنڈری اداکار عرفان خان نے کیا خوب اور زبردست جملہ بولا تھا کہ ’’جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘‘ زندگی میں بارہا اس تلخ جملے کو حقیقت بنتے دیکھا اور ہر بار د ل کرچی کرچی ہو جاتا ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">اخبار کی کاپی طباعت کیلئے پرنٹنگ پریس جانے میں کچھ دیر باقی تھی۔ اسی دوران کمپیوٹر پر آن واٹس ایپ پر نظر پڑی تو مختلف صحافتی گروپس میں یہ میسج گردش کررہا تھا کہ’’ ملتان پریس کلب کے سینئر و اہم رکن اظہار علی عباسی فالج کے اٹیک سے نشتر ہسپتال وارڈ نمبر 7 میں داخل ہیں، حالت تشویش ناک ہے۔ سب دوستوں سے تعاون اور دعاؤں کی درخواست ہے۔‘‘ یہ میسج ان کے کزن کی جانب سے شیئر کیا گیا تھا۔ دل و دماغ کو ایک جھٹکا سا لگا کہ یہ کیسے ہو گیا۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">میں نے اپنے ساتھی سینئر صحافی عبدالحئی بلوچ کو زور سے پکار کر پکار کر یہ اطلاع دی تو وہ بھی سن کر ہکا بکا رہ گئے۔ کچھ ہی دیر میں واٹس ایپ اور فیس بک پرہرطرف اظہار عباسی صاحب پر فالج کے اٹیک کی اطلاع گردش کر رہی تھی۔ ان کے ہزاروں چاہنے والے اس خبر سے شدید کرب میں مبتلا تھے کہ یہ کیسے یہ اچانک کیسے ہو گیا ۔عبدالحئی صاحب نے کسی دوست کے ذریعے معلومات لی تو پتہ چلا کہ ان کا بلڈ پریشر شوٹ کر گیا تھا جو فالج کا سبب بننا اور ان کے جسم کا دایاں حصہ شدید متاثر ہوا ہے۔ ڈیوٹی ختم کر کے عبدالحئی صاحب نشتر ہسپتال روانہ ہوئے تو میں نے انہیں کہا کہ پہنچ کر طبیعت کا بتانا، ابھی میں راستے میں ہی تھا کہ عبدالحئی صاحب نے یہ روح فرساں خبر سنائی کہ اظہار عباسی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ یہ سن کر میرا دماغ بھک سے اڑ گیا، کانوں پر یقین نہیں آیا ۔دوبارہ پوچھا تو انہوں نے دل گرفتہ ہو کر کہا کہ اظہار عباسی صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">دل و دماغ میں ماضی کی باتیں اور یادیں کسی فلم کی ریل کی طرح گردش کر رہی تھیں میں نے جب صحافت میں قدم رکھا تو اظہار عباسی صاحب کا سینئرز میں شمار ہوتا تھا ۔عمر میں گو کہ زیادہ فرق نہیں تھا مگر وہ صحافت میں کئی سال قبل آچکے تھے۔ ملتان پریس کلب کی سیاست اور نیوز روم کی صحافت میں وہ ایک معتبر نام تھے۔ اظہارعباسی صاحب نے کئی بار ملتان پریس کلب کا الیکشن بھی لڑا اور خاص بات یہ ہے کہ وہ ہر بار جیت کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ الیکشن پینل میں صحافی ان کے نام پراوکےکا ٹک لگا کر دیگر امیدواروں کا موازنہ کر رہے ہوتے تھے کہ ان میں سے کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔ اظہار عباسی صاحب کو زیادہ تر لوگ ان کے جنم دن ،برسی پیغامات کے حوالے سے جانتے ہیں لیکن ملتان کے نیوز روم کے لوگ گواہ ہیں کہ انہوں نے ساری زندگی نیوز روم کی سربلندی اور سب ایڈیٹرز کی عزت و توقیر میں اضافے کی جنگ لڑی۔ انہوں نے سب ایڈیٹرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور سینئر دوست و استاد ندیم احمد شاہین صاحب کے ساتھ مل کرکئی برس قبل ایڈیٹرز ویلفیئر فورم کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم میں اس وقت تقریباً تمام اخبارات سے نیوز روم کے سب ایڈیٹرز نے شمولیت اختیار کی اور ایک کاز پر سب اکٹھے ہو گئے۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے را قم سمیت کئی سب ایڈیٹرز نے الیکشن لڑے اور سب ایڈیٹرز کی طاقت دکھائی مگر کچھ دوستوں کے باہمی اختلافات کے باعث یہ تنظیم مزید کام جاری نہ رکھ پائی۔اظہار عباسی صاحب سب ایڈیٹر تھے اور اس لیے ہمیشہ سب ایڈیٹرز کے حقوق کی بات کی اور ان کے حقوق کی جنگ لڑی، وہ کہتے تھے کہ ہم ایڈیٹرز ہیں۔خبریں ایڈٹ کرتے ہیں۔ ہم سب ایڈیٹر تو ذمہ داریوں اور ادارے کی طرف سے دیئےگئے عہدے کی وجہ سےکہلاتے ہیں۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">2015 میں روزنامہ دنیا ملتان سے شروع ہوا تو اظہار عباسی سمیت ہم بہت سے دوستوں نے دنیا جوائن کر لیا ۔پہلی بار یہاں ان کے ساتھ کام کا موقع ملا اور ان کی مزید خوبیاں عیاں ہوئیں۔ اظہار عباسی صاحب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ان کی ٹیبل کی دراز کینڈیز سے بھری رہتی تھی ۔جب کبھی ہم کام کرتے کرتے تھک جاتے اور منہ کڑوا ہو جاتا تو ہم دوست عباسی صاحب سے بلا تکلف کینڈی مانگتے اور پھر وہ سب ہی میں تقسیم کر دیتے، یہ ان کا معمول تھا۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے سب دوست اس کے گواہ ہیں۔ عباسی صاحب بے اولاد تھے۔ اس لئے انہیں بچوں سے بہت پیار تھا ۔اس کمی کو وہ اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کر جاتے تھے۔ روزنامہ دنیا میں جب ہم تھے تو وہاں پر باقاعدہ باجماعت نماز کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اظہار عباسی صاحب اکثر امامت کراتے اور سورہ صافات کی آیات 180 تا 182 کی تلاوت ان کا معمول ہوتی جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے’’ باقی ہے تمہارے رب کو ،عزت والے رب کو، ان کی باتوں سے اور سلام ہے پیغمبروں پر، اور سب خوبیاں ہی اللہ کو، جو سارے جہاں کا رب ہے۔‘‘</span><br><span style="font-size: 14pt;">اظہار عباسی صاحب کے رشتہ دار آئرلینڈمیں مقیم ہیں۔ وہ اکثر اس معاشرے اور وہاں کے رہن سہن کے بارے میں بتاتے رہتے تھے۔ اب برادرم ناصر محمود شیخ صاحب کے قلم سے معلوم ہوا کہ وہ بھی بیرون ملک جانے کیلئےکوشاں تھے مگر ان کا ویزا مسترد ہو گیا تھا جس پر وہ بہت دل گرفتہ تھے۔ شاید یہی صدمہ انکے لئے جان لیوا ثابت ہوا ۔ اظہار عباسی صاحب کافی عرصے سے بے روزگار تھے ۔شہد کی طرح میٹھے شخص نے زندگی کی گزر بسر کیلئے کاروبار بھی شہد کا چنا ۔وہ پی ٹی وی سمیت مختلف سوشل میڈیا چینلز کیلئے بھی کام کر رہے تھے مگر یہ سب گزر بسر کیلئےنا کافی تھا ۔انہیں صرف مصروف رکھنے کا بہانہ ضرور کہا جا سکتا ہے۔ان کا ویزا ریجیکٹ ہوا ،شاید اگلی بار منظور بھی ہو جاتا اور وہ نئی زندگی کا آغاز کرتے مگر قسمت نے انہیں مزید مہلت نہ دی۔ اسی لئےپھریہی بات یادآجاتی ہےکہ بقول اداکار عرفان خان’’ جب ہم جیسوں کے دن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے‘‘ اظہار عباسی صاحب 17 اپریل 2026 کو راہی ملک عدم ہوئے ۔ملتان کے سب ایڈیٹرز کی توانا آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">رئیس فروغ نے کیا خوب کہا تھا :</span><br><span style="font-size: 14pt;">لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں</span><br><span style="font-size: 14pt;">اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں۔</span></p>
<p></p>
<p><span style="font-size: 14pt;">The post <a rel="nofollow" href="https://dailyqaum.com/%D8%AC%D9%86%D9%85%D8%8C-%D9%82%D9%84%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B8%DB%81%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D9%85/">جنم، قلم اور اظہار الم</a> first appeared on <a rel="nofollow" href="https://dailyqaum.com/">Daily Qaum</a>.</span></p>
<p></p>]]> </content:encoded>
</item>

<item>
<title>آفیسر سے آفیسر تک  ( قسط دوئم )</title>
<link>https://dailynijaat.com/486</link>
<guid>https://dailynijaat.com/486</guid>
<description><![CDATA[  ]]></description>
<enclosure url="https://dailynijaat.com/uploads/images/202604/image_870x580_69e678d90d3a7.jpg" length="61961" type="image/jpeg"/>
<pubDate>Tue, 21 Apr 2026 00:55:20 +0500</pubDate>
<dc:creator>WebDesk</dc:creator>
<media:keywords></media:keywords>
<content:encoded><![CDATA[<p><span style="font-size: 14pt;">قیدی کی طرف سے دی گئی اس انفارمیشن کا دوسرا حصہ میں نے ایک پولیس آفیسر کو بتایا کہ جیل میں کسی کاغذ پر تعویذ لکھ کر بھجوائے جاتے ہیں کہ روزانہ ہر نماز کے بعد ایک پانی میں</span><br><span style="font-size: 14pt;">گھول کر پینا ہوتا ہے مگر اصل میں اس تعویذ کی دوسری جانب کسی ایسی سیاہی سے تحریر لکھی جاتی ہے کہ جو استری سے گرم کرکے پڑھی جاتی ہے۔ مذکورہ پولیس آفیسر جن کا اب انتقال ہو چکا ہے، نے اس انفارمیشن پر کام شروع کیا تو انہوں نے ایک نیٹ ورک پکڑا جو ایک ہمسایہ ملک سے آپریٹ ہوتا تھا۔ یہ آج سے 23 یا 24 سال پہلے کی باتیں ہیں جو مجھے آج بھی یاد ہیں تاہم انہوں نے بتایا تھا کہ جو تحریر انہوں نے پکڑی وہ منشیات کے الزام میں قید ایک شخص کی تھی مگر وہ میرا بہت ہی احترام کرتے تھے کہ میں نے انہیں ایک اچھا لنک دیا تھا۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">ملتان میں سیف اللہ چھٹہ بہت متحرک ڈپٹی کمشنر رہے ہیں ایک مرتبہ ایک ملاقات میں سوال کیا کہ ملتان بارے یہ جملہ مشہور ہے۔ میٹھے آموں کا شہر، کاٹن کا خطہ اور صوفیائے کرام کا شہر، مگر شہر میں درخت تو ایک بھی دکھائی نہیں دیتا۔ آپ کو بہاولپور رحیم یار خان سمیت جنوبی پنجاب کے کئی شہروں بھی آپ کو گھنے پرانے اور سایہ دار درخت دکھائی دیں گے مگر ملتان میں شاید ہی کوئی قدیم اور گھنا درخت بچا ہو حالانکہ یہ دنیا کا قدیم ترین آباد شہر ہے۔ چھٹہ صاحب سے طے ہوا کہ ملتان کی کسی ایک سڑک کو مینگو روڈ کا نام دیا جائے۔ میرا موقف یہ تھا کہ ایک شخص ائیر پورٹ سے شہر میں داخل ہوتا ہے تو اسے شہر سے گزرتے ہوئے آموں کی مختلف اقسام کے درخت نظر آئیں۔ کسی چوک میں شیشے کے بڑے بکس میں کپاس کے آرٹیفیشل پودے ہی لگا دیں کہ کاٹن بیلٹ کے سب سے بڑے مرکز کا تعارف ہو۔ تجویز پسند کی گئی اور سڑک بھی تلاش کر لی گئی مگر اس دوران سیف اللہ چھٹہ ٹرانسفر ہو گئے اور میجر شکیل اپنی “پوری ذہانت‘‘ کے ساتھ اس شہر میں وارد ہو گئے تو انہوں نے جس طرح کی کمپنی اپنے اردگرد چند ہی دنوں میں جمع کر لی مجھے آنے والے حالات کا اندازہ ہوا اور میں نے کنارہ کش ہونے ہی میں ہی عافیت سمجھی۔ پھر انہوں نے ابدالی روڈ پر جشن بہاراں منعقد کرایا اور مینگو روڈ کے خوبصورت آئیڈیے کا جنازہ کچھ اس طرح نکالا کہ ابدالی روڈ پر دونوں اطرف کے کھمبوں کے ساتھ پلاسٹک کے نیلے، پیلے، ہرے اور سرخ آم لٹکا کر ان میں برقی قمقمے روشن کر دیے اور اس طرح ایک خوبصورت آئیڈیے کا کباڑا نکال دیا۔ پھر چند ہی دنوں میں کوئی بلب بجھ گیا تو کوئی آم گرمی کی حدت سے خود بخود ہی چوسا گیا اور کوئی اندونی اور بیرونی حرارت کی شرمندگی سے پانی پانی ہو کر کھمبے کے نیچے شبنم کے قطروں کی طرح گر گر کر زمین پر ہی جم گیا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب چار پانچ سو میں آم کا اچھا خاصا پودا کسی بھی نرسری سے مل جاتا تھا مگر سنا تھا کہ وہ پلاسٹک کا آم ملتان سرکار کو 6 ہزار روپے فی پیس کے حساب سے پڑا تھا۔ بس پھر فیصلہ کیا کہ اب کسی کو بھی مشورہ دینے کی “حماقت” نہیں کرنی کہ عقلمند کو ضرورت نہیں ہوئی اور کم عقل سنتا نہیں اور سالہا سال سے اپنے اس فیصلے پر قائم رہنے کیلئے فیصلہ کن ہستیوں کے دوری اختیار کرنے میں ہی عافیت پائی کہ “نہ رہے بانس نہ بجے بانسری”۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">وقت گزرتا گیا کہ جنرل تنویر نقوی کا انتظامی فارمولا لاگو ہو گیا جس میں پولیس کو انتظامیہ کی چھتری سے مکھن سے بال کی طرح الگ کر لیا گیا اور ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ختم کرکے ڈی سی اوز بنا دیئے گئے۔ پولیس آڈر 2002 کو دو تین مرتبہ پڑھایا اور سینئر وکلا ء سے رائے بھی لی۔ بعض نے جو نقشہ کھینچا وہ آج کی آزاد، خود مختار اور’’ چادر چار دیواری‘‘ کی محافظ پولیس کو دیکھتے ہوئے کر بہت حد تک درست ثابت ہو رہا ہے۔ آج ضلعی پولیس سرے سے ضلعی انتظامی سربراہ کو جواب دہ ہی نہیں اور خود مختاری سی خود مختاری سے کہ بیان ہی سے باہر ہے۔ میرے ایک سیاستدان دوست مجھے اس وقت کے ڈی سی او میجر اعظم سلیمان کے پاس لے گئے۔ حسب عادت ’’حس مشورہ‘‘ بھڑک اُٹھی مگر بعد میں اس مشورے کا انجام دیکھ کر پھر سے توبہ کر لی۔ اور وہ توبہ اب عامر کریم خان کے بطور کمشنر چارج لینے کے بعد خود بخود ہی ٹوٹ گئی ہے۔ سوچا کہ چشم تماشا میں محفوظ مناظر کو پھر سے قرطاس پر بکھیر دیا جائے۔ نہ جانے کیوں یہ یقین ہے کہ مجھے اس مرتبہ توبہ کے توڑنے کا نہ تو کفارہ ادا کرنا پڑے گا اور نہ ہی دوبارہ توبہ کرنی پڑے گی کیونکہ ’’ گربہ کشش روز اول‘‘ کے مصداق انہوں نے رکاوٹیں پیدا کرنے والی بلی کو پہلے دور چار دنوں میں مار دیا ہے۔ بات ہو رہی تھی میجر اعظم سلیمان کی تو ان کے ’’پروفیشنل ازم‘‘ کے حوالے سے ایک واقع یاد آ گیا۔ وہ حکومت پنجاب میں سیکرٹری جنگلات تھے۔ بطور سیکرٹری جنگلات نہری پانی میں اضافے کیلئے سیکریٹری انہار کو انہوں نے مفصل رپورٹ بھیجی اور بتایا کہ پنجاب میں زیر زمین واٹر لیول کم ہونے کی وجہ سے محکمہ جنگلات کے درخت سوکھ رہے ہیں اور سب سے زیادہ نقصان شیشم کے درخت کا ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے سیکرٹری انہار کے نام یاد دہانی کے خطوط بھی لکھے مگر شنوائی نہ ہوئی۔ اسی دوران اعظم سلیمان سیکرٹری انہار تعینات ہو گئے تو محکمہ جنگلات کے افسران میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ وفد کی صورت میں پھول اور عرضداشت لے کر مبارکباد دیئے گئے اور انہیں یاد دہانی کرائی کہ اب تو جنگلات کیلئے مطلوبہ مقدار کے پانی کی فراہمی آپکے محض ایک دستخط کی مار ہے۔ ان افسران کی بات سن کر اعظم سلمان نے کہا کہ اب مجھے محکمہ انہار کے مفادات کو ترجیح دینا ہے۔ وہ اپنے ہی اصولی موقف سے دو ہی دن میں ہٹ چکے تھے ۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">سول ڈیفنس کا محکمہ جو کہ سرکاری محکموں میں کسی کھاتے میں ہی نہیں ہوا کرتا تھا مگر گذشتہ چند سال کے دوران اس کے کھاتے اتنے وسیع ہو چکے ہیں کہ یہ سول سوسائٹی کا ڈیفنس کرنے کی بجائے سماج دشمن عناصر، ملاوٹ مافیا اور جعلی کاروبار کرنے والوں کی پہلی ڈیفنس لائن بن چکا ہے۔ سول ڈیفنس کے بہت سے ماسٹر مائنڈ قسم کے افسران ملاوٹ مافیا کیلئے سہولت کاری کے حوالے سے نت نئی کارروائیاں ڈالتے ہیں اور یہ اس محکمے کی ملاوٹ مافیا کو دی گئی آشیر باد ہی ہے کہ ملتان میں گیس سلنڈر پھٹنے کے درجنوں واقعات اور ان گنت اموات ہونے کے باوجود ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس محکمے میں چند ’’گورکن‘‘ ایسے ہیں جن کا رزق ہی حادثاتی واقعات سے وابستہ ہے۔ ملتان میں ناقص ایل پی جی سلنڈر پھٹیں یا 30 ٹن کے باوزر۔ ایل پی جی میں ملاوٹ سے سلنڈروں کا اندرونی پریشر پڑھے اور وہ پھٹ جائیں۔ ایس او پیز کے منافی ڈبہ پٹرول اسٹیشن اور ایل پی جی کی ملاوٹ جیسے مکروہ دھندے کے پیچھے سول ڈیفنس ہی کا ہاتھ نظر آتا ہے مگر پہلی مرتبہ موجودہ کمشنر عامر کریم خان نے ہاتھ ڈالا ہے اور انہوں نے چند ہی دنوں میں از خود وجوہات کا جائزہ لے کر ہنگامی اقدامات اور فیصلے کرائے ہیں جن کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ رہا معاملہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کا تو پہلی مرتبہ اس شہرکے بعض علاقے وسیع لگنے لگے ہیں (جاری ہے)</span></p>]]> </content:encoded>
</item>

<item>
<title>آفیسر سے آفیسر تک (قسط اول)</title>
<link>https://dailynijaat.com/485</link>
<guid>https://dailynijaat.com/485</guid>
<description><![CDATA[  ]]></description>
<enclosure url="https://dailynijaat.com/uploads/images/202604/image_870x580_69e678d90d3a7.jpg" length="61961" type="image/jpeg"/>
<pubDate>Tue, 21 Apr 2026 00:53:53 +0500</pubDate>
<dc:creator>WebDesk</dc:creator>
<media:keywords></media:keywords>
<content:encoded><![CDATA[<p class="has-text-align-center"><span style="font-size: 14pt;"><strong>تحریر؛میاں غفار (کارجہاں)</strong></span></p>
<p class="has-text-align-right"><span style="font-size: 14pt;">ملتان میں خوشگوار تبدیلی اچانک دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اچانک سینٹری ورکرز اور کوڑا اٹھانے والی ٹیمیں نہ جانے کہاں سے سڑکوں پر نکل روزانہ صبح اور بعض اوقات دوپہر میں بھی کال میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ دہائیوں کے تنگ راستے بعض مقامات پر حیرت انگیز طور پر کھل گئے ہیں۔ ابھی تو کسی اعلی حکومتی شخصیت کا دورہ بھی نہیں کہ دو تین روزہ کاروائی دیکھنے کو ملے اور دورہ ختم ہوتے ہی سابقہ روٹین بحال۔ یہ روزانہ کی تبدیلی ہضم نہیں ہو رہی۔ ہم تو ٹوٹی سڑکوں، ابلتے گٹروں، گندگی کے ڈھیروں اور اڑتی گرد کو نسلوں سے قبول کے چکے تھے اب اگر یہ کوچہ کاچی کوچ کہ گئی تو ہم زیادہ تنگ ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ مقامی لوگ کم ہی تبدیلی لایا کرتے ہیں کہ وہ اوائل عمری ہی سے جس ماحول میں رہتے ہیں اس کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں اور ماحول تبدیل نہیں ہونے دیتے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تبدیلیاں ہجرت کرنے والے لاتے ہیں۔ جھنگ میں میرے ایک دوست مہر منظور کاٹھیا جن کا انتقال ہو چکا ہے کے والد مہر محمود کاٹھیا نے ایک مرتبہ بتایا کہ ہم نے بہت سی سبزیوں کے ذائقے 1947 کے بعد تب چکھے جب مہاجر آئے اور انہوں نے مختلف اقسام کی سبزیاں اور فصلیں کاشت کی۔ وہ بتاتے تھے کہ میں نے پہلی مرتبہ کریلے گوشت ایک مہاجر خاندان کے گھر کھایا اور مجھے زندگی بھر اس کا ذائقہ نہیں بھولا۔ تبدیلی کے بارے میں دوسرا نظریہ یہ ہے کہ کسی بھی نئے آنے والے کے پہلے پندرہ، بیس دنوں کے اقدامات ہی سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کیسے کام کرے گا اور کس طرح سے کاروبار زیست چلائے گا۔ ٹرمپ کی تازہ ترین مثال سامنے کی بات ہے۔ عمران خان جب اقتدار میں لائے گئے تو ایک خوف تھا کہ وہ بہت کچھ بہتر کردیں گے اور وہ بندہ تن کے رکھ دے گا۔ خوف اتنا تھا کہ سیاست دانوں، سرکاری افسران کے گھروں، ڈیروں اور زمینوں پر خدمات سر انجام دینے والے بلدیاتی اداروں سمیت مختلف صوبائی محکموں کے ورک چارج، عارضی و پکے نچلے درجے کے ملازمین ہزاروں کی تعداد میں صوبہ بھر کے مختلف محکموں میں واپس بھجوا دیئے گئے تھے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">جنوبی پنجاب کے ایک ضلع کے ایک سابق ایم این اے کے گھر سے سالہا سال بعد 22 سرکاری ملازمین اپنے اپنے محکموں میں عمران خان کے حلف اٹھانے کے اگلے ہی دن ڈیوٹیوں پر پہنچ چکے تھے۔ پنجاب کے تمام اضلاع میں صورتحال یہ تھی کہ ہزاروں نئے چہرے ’’نویں پروہنے‘‘ بن کر اپنے اپنے متعلقہ افسران کو رپورٹ دے کر ذمہ داریاں پوچھ رہے تھے مگر یہ ماحول صرف دو ہفتے رہا۔ ادھر شہد کی بوتلوں تحائف کی سیاست کرنے والے سردار عثمان بزدار وزیراعلیٰ بنے اور ادھر ہر طرف گرین سگنل ہو گیا اور تمام کے تمام سرکاری تنخواہیں لے کر سیاست دانوں کے ڈیروں پر ڈیوٹیاں دینے والے واپس اپنی اپنی سالہا سال پرانی ذمہ داریاں سنبھال چکے تھے کہ سب اچھا کا میسج چل چکا تھا ’’سکون کریں کچھ نہیں بدلا‘‘ صرف پرانی فلم شرطیہ نئے پرنٹوں کے ساتھ لانچ ہوئی ہے‘‘ کہانی نہیں بدلے گی اور یہی طور طریقے چلیں گے پھر چلے بھی رہے اور پوری آب و تاب سے چلتے رہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">گزشتہ ایک ماہ میں اور کوئی ہو نہ ہو مگر میں بہت پرامید ہوں ۔میں نے پہلی مرتبہ ملتان میں تیز تر تبدیلی دیکھی ہے اور اس شہر میں 28 سالہ آنیوں جانیوں کے دوران میں پہلی مرتبہ جس خوشگوار احساس سے گزر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ ابھی کار سرکار میں خاطر خواہ سیاسی مداخلت نظر نہیں آ رہی ورنہ سیاسی ہاتھ سرکار کی کار پہلے گیئر ہی میں روک دیا کرتے تھے۔ سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ یہ تنگ اور تاریک بازاروں میں وسعت کہاں سے آ گئی ہے۔ اوپر سے اب اس شہر میں دیگر شہروں کی طرح اختیاراتی بدتمیزی بھی دیکھنے کو نہیں مل رہی اور مجھے ابھی تک تو بہت حد تک انتظامی اور عوامی ہم آہنگی نظر آ رہی ہے۔ اب معلوم نہیں کہ عوامی نمائندے بدلے ہیں یا انتظامیہ عوام دشمنی سے عوام دوستی کی طرف روانگی اختیار کر چکی ہے۔ ایک بات طے شدہ ہے کہ عوام کی کچھ کچھ سنی جا رہی ہے اور عوام غبار بھی نکالے تو اسے حق دیا جاتا ہے۔ ویسے بھی ہمارے استاد محترم کہا کرتے تھے بحیثیت قوم ہم سناتے زیادہ اور سنتے کم ہیں۔ وہ ایک جملہ کہا کرتے تھے We are bad Listner ، مگر اب سنی جا رہی ہے اور نہ صرف سنی جا رہی ہے بلکہ عمل بھی ہو رہا ہے اور ہوتا ہوا دکھائی بھی دے رہا ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">ملتان میں ایل پی جی باؤزرز میں Co2 کی ملاوٹ کے دوران ہونے والے دھماکے اور انسانی جانوں کو ضیاع کے بعد جس طرح کے اقدامات انتظامیہ کی طرف سے نظر آئے، اتنی ہی بری ایف آئی آر پولیس کی طرف سے درج کی گئی اور ایف آئی آر کا متن چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کہ مقامی پولیس کو نہ صرف اس ملاوٹ مافیا کا علم تھا بلکہ پولیس اہلکار باقاعدگی سے وہاں قیام و طعام کرتے تھے ۔طعام کا کوانٹم کتنا بھاری تھا وہ ایف آئی آر کے بھدے پن ہی سے عیاں ہو گیا ۔اس واقعے پر جس طرح کمشنر ملتان عامر کریم خا ن نے معلومات جمع کی اور جس طرح جائے وقوعہ سے لے کر برن یونٹ تک ہر مرحلے پر عقابی نظر رکھی، جس طرح رپورٹ مرتب کرکے اسلام آباد میں انکوائری کمیٹی کو پیش کی، جس طرح موقع پر متاثرین کیلئے سرکاری عملہ 24 گھنٹے ڈیوٹی دیتا رہا ،پھر جس طرح سول ڈیفنس کی گوشمالی کی گئی ۔جس طرح غیر معیاری سلنڈروں کی فروخت کرنے والوں کے گرد شکنجہ تنگ کیا گیا۔ میں اس ایک ایک مرحلے بارے آگاہ ہوں اور اس واقعہ کے بعد کی فوری کارروائی نے کمشنر آفس کی فعالیت بارے سالہا سال سے ایک واقعہ کے بعد میرے دماغ میں گھر کی ہوئی منفی تاثر کی سلیٹ کسی حد تک صاف کر دی ۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">ہوا یوں کہ ملتان میں ناصر کھوسہ کمشنر تھے۔ ملتان کی ایک جیل سے رہا ہونے والے قیدی نے رہائی کے بعد گھر جانے کے بجائے میرے دفتر آ کر مجھ سے علیحدگی میں ملاقات کی اور بتایا کہ جیل کے ایک آفیسر کے جیل کی حدود میں واقع سرکاری رہائش گاہ میں فرنیچر کا کام ہو رہا ہے اور جیل سے ایک پنجہ روزانہ صبح انکی رہائشگاہ پر جاتا ہے اور شام چار بجے واپس آتا ہے۔ وہ جیل کے اندر بند خطرناک قیدیوں کے پیغامات باہر لے کر جاتے ہیں اور پھر ان کے جوابات کبھی چند دن بعد لے کر آتے ہیں اور کبھی جیل میں تعویذ لکھے ہوئے انہیں ملتے ہیں جس پر خاص سیاہی سے پوری تحریر لکھی جاتی ہے جو استری سے گرم کر کے پڑھی جاتی ہے۔ پنجہ ان پانچ قیدیوں کے گروپ کو کہتے ہیں جو جیل سے مزدوری کیلئے سرکاری افسران کی رہائش گاہوں پر جاتے ہیں۔ 20 سال قبل لاہور کی جی او آر میں بھی کیمپ جیل سے کئی پنجے کوٹھیوں پر کام کرنےکیلئے جایا کرتے تھے۔ وہ مجھے جس قسم کی کہانیاں سناتے تھے وہ ایک علیحدہ موضوع ہے جس پر پھر کبھی لکھوں گا۔ ابھی موضوع پر رہتے ہیں۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">وہ پنجہ لکڑی کے بچے کچھے ٹکڑے جیل کی چاردیواری سے باہر پھینکتے تھے جنہیں گھوم پھر کر ردی اور پلاسٹک اکٹھے کرنے والے لڑکوں کے روپ میں ایک شخص آ کر لے جاتا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب دہشت گردی عروج پر تھی اور مذہبی گروہ آپس میں قتل و غارت کا بازار گرم کئے ہوئے تھے میں نے کافی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ اس وقت کمشنر ملتان ناصر کھوسہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے۔ لہٰذا میں نے فون پر ان سے وقت لیا اور ابدالی روڈ پر واقع کمشنر ہاؤس جو اب کارڈیالوجی ہسپتال بن چکا ہے، میں ان سے ملنے چلا گیا۔ انہیں تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا اور انہوں نے نہ صرف توجہ سے بات سنی بلکہ نوٹس بھی لئے۔ اگلے ہی روز صبح 10 بجے اسی رہائی پانے والے کا فون آیا اور مجھ سے پوچھنے لگا کہ آپ نے وہ معلومات کس کو دی ہیں۔ وہ خاصا پریشان تھا اور تیز تیز بول رہا تھا۔ کہنے لگا کہ آپ کی انفارمیشن لیک ہو گئی ہے۔ صبح آٹھ بجے حسب معمول پنجہ جیل سے ہتھکڑیوں میں مذکورہ صاحب کی کوٹھی پر لایا گیا مگر صرف 40 منٹ بعد ہی سپاہیوں کے حصار میں بھاگتا ہوا جیل میں واپس چلا گیا۔ وہ استفسار کرتا رہا کہ میں نے کس کو انفارمیشن دی ہے یا پھر۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا اور اس نے فون بند کر دیا۔ میں نے اسی وقت ناصر کھوسہ کو فون کیا مگر ان کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہ تھا۔ پھر مجھے اس کوتاہی پر کسی کے خلاف کوئی کارروائی بھی ہوتی ہوئی دکھائی نہ دی تو میں یہ تو کر ہی سکتا تھا کہ آئندہ اعتماد نہ کروں۔ (جاری ہے)</span></p>]]> </content:encoded>
</item>

<item>
<title>پنجاب کی جامعات: خودمختاری یا ٹھیکیداری (آٹھویں قسط)</title>
<link>https://dailynijaat.com/484</link>
<guid>https://dailynijaat.com/484</guid>
<description><![CDATA[  ]]></description>
<enclosure url="https://dailynijaat.com/uploads/images/202604/image_870x580_69e678d90d3a7.jpg" length="61961" type="image/jpeg"/>
<pubDate>Tue, 21 Apr 2026 00:50:43 +0500</pubDate>
<dc:creator>WebDesk</dc:creator>
<media:keywords></media:keywords>
<content:encoded><![CDATA[<p><span style="font-size: 14pt;">گزشتہ قسط میں ترقیاتی منصوبوں، مالی بے ضابطگیوں اور گورننس کی کمزوریوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی مگر اس پورے نظام کی ایک اور نہایت تشویشناک جہت وہ ہے جو براہِ راست انسانی وسائل یعنی تقرریوں، تربیت، اور انتظامی ذمہ داریوںسے جڑی ہوئی ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">ہمارے ہاں جامعات میں ایک خطرناک رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے جسے’’ایڈیشنل چارج‘‘ (Additional Charge) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اہم اور قانونی نوعیت کی اسامیوں۔ جنہیں اسٹیچوٹری پوسٹس کہا جاتا ہے، پر مستقل اور اہل افراد تعینات کرنے کے بجائے عارضی طور پر کسی بھی افسر کو اضافی ذمہ داری دے دی جاتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف قواعد و ضوابط کی روح کے منافی ہے بلکہ ادارہ جاتی کارکردگی کے لیے بھی زہرِ قاتل ثابت ہو رہا ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">حقیقت یہ ہے کہ اسٹیچوٹری عہدےجیسے رجسٹرار، کنٹرولر آف ایگزامینیشنز، یا خزانچی، انتہائی حسا س نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اور ان کے لیے مخصوص مہارت، تجربہ اور مکمل توجہ درکار ہوتی ہے۔ مگر جب ایک ہی شخص کو متعدد عہدوں کا اضافی چارج دے دیا جائے تو وہ کسی ایک ذمہ داری کے ساتھ بھی انصاف نہیں کر پاتا۔ نتیجتاً فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے، انتظامی امور سست روی کا شکار ہوتے ہیں اور جوابدہی کا نظام تقریباً مفلوج ہو جاتا ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">پھر جب سپریم کورٹ آف پاکستان کی بھی واضح ہدایات موجود ہیں کہ چھے ماہ سے زائد ایڈیشنل چارج نہ دیا جائے۔ پھر بھی 14,14 سال تک یونیورسٹی انتظامیہ کا ڈھٹائی پر قائم رہنا اور پھر گورنر پنجاب کو ایک ہی شخص کی ایڈیشنل چارج کی سمری 14 سال تک بھیجتے رہنا اس تعلیمی نظام کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان اہم عہدوں پر تعیناتی کے لیے نہ تو کسی باقاعدہ تربیت کا نظام موجود ہے اور نہ ہی میرٹ کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بااثر افراد کوجو مطلوبہ مہارت اور تجربے سے محروم ہوتے ہیں، صرف تعلقات یا دباؤ کی بنیاد پر ان عہدوں پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پیشہ ورانہ معیار کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">ضرورت اس امر کی ہے کہ اسٹیچوٹری پوسٹس پر ایڈیشنل چارج دینے کی روایت کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ ہر اہم عہدے پر باقاعدہ، مستقل اور اہل فرد کی تعیناتی یقینی بنائی جائے جو اپنی ذمہ داریوں کو مکمل وقت اور توجہ دے سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازمی قرار دیا جائے کہ کسی بھی تقرری سے قبل متعلقہ فرد کو کم از کم تین سے چھ ماہ کی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے جو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) یا ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے زیرِ اہتمام ہو۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">یہ تربیت محض رسمی کارروائی نہ ہو بلکہ اس میں گورننس، مالیاتی نظم و نسق، قانونی تقاضوںاور جدید تعلیمی انتظامیہ کے اصولوں کو شامل کیا جائےتاکہ تعینات ہونے والا افسر اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں نبھا سکے۔ دنیا بھر کی کامیاب جامعات میں کسی بھی اعلیٰ انتظامی عہدے پر تعیناتی سے قبل باقاعدہ تربیت اور اہلیت کا سخت معیار مقرر ہوتا ہےاور یہی وہ ماڈل ہے جسے ہمیں اپنانا ہوگا۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">اگر ہم نے اس اہم مسئلے کو نظر انداز کیا تو نہ صرف گورننس کے مسائل مزید پیچیدہ ہوں گے بلکہ اداروں میں نااہلی، اقربا پروری، اور بدانتظامی کا کلچر مزید مضبوط ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، اگر میرٹ، تربیت، اور پیشہ ورانہ مہارت کو بنیاد بنایا جائے تو جامعات نہ صرف انتظامی طور پر مستحکم ہوں گی بلکہ تعلیمی میدان میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">آخر میں ایک اور اہم سوال: کیا ہم اپنی جامعات کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں، یا انہیں وقتی مفادات اور غیر سنجیدہ فیصلوں کے حوالے کیے رکھنا چاہتے ہیں؟</span></p>]]> </content:encoded>
</item>

<item>
<title>پنجاب کی جامعات: خودمختاری یا ٹھیکیداری(دوسری قسط)</title>
<link>https://dailynijaat.com/483</link>
<guid>https://dailynijaat.com/483</guid>
<description><![CDATA[  ]]></description>
<enclosure url="https://dailynijaat.com/uploads/images/202604/image_870x580_69e678d90d3a7.jpg" length="61961" type="image/jpeg"/>
<pubDate>Tue, 21 Apr 2026 00:20:15 +0500</pubDate>
<dc:creator>WebDesk</dc:creator>
<media:keywords></media:keywords>
<content:encoded><![CDATA[<p><span style="font-size: 14pt;">پنجاب کی جامعات میں خودمختاری کے نام پر بڑھتی ہوئی بے ضابطگیوں، وائس چانسلرز کے انتظامی کردار، سنڈیکیٹ کے ناجائز استعمال اور حکومتی نگرانی کی کمزوریوں کا مختصر جائزہ لیا گیا تاہم اگر اس پورے نظام کے سب سے زیادہ حساس اور فیصلہ کن پہلو کی نشاندہی کی جائے تو وہ بھرتیوں میں خودمختاری کا اندھا اختیار ہے۔ یہ ایک ایسا اختیار ہے جو بظاہر تو ادارہ جاتی آزادی کے لیے دیا گیا مگر عملی طور پر سب سے زیادہ غلط استعمال کا شکار نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جامعات میں اساتذہ اور دیگر عملے کی بھرتی کا عمل، خواہ وہ مستقل بنیادوں پر ہو، کنٹریکٹ پر، ڈیلی ویجز پر یا وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر، شفافیت اور میرٹ کے بجائے اثر و رسوخ، ذاتی تعلقات اور سفارشات کے ساتھ ساتھ مالی مفادات کی نذر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ سلیکشن بورڈز اور وائس چانسلرز پر مختلف حلقوں کی جانب سے مالی، سیاسی اور ادارہ جاتی دباؤ بھی ڈالا جاتا ہے، اور نتیجتاً ایسے افراد کو ترجیح دی جاتی ہے جو قابلیت کے بجائے جملہ خدمات اور تعلقات کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں آنے والی نئی نسل کی تدریسی و تحقیقی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے، اور تعلیمی معیار مستقل اور مسلسل تنزلی کا شکار رہتا ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">یہاں ایک اور نہایت تشویشناک پہلو اعلیٰ ڈگریوں کا کھوکھلا پن ہے۔ آج یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بعض افراد اپنی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تھیسز خود لکھنے کے بجائے پیسے دے کر تیار کرواتے ہیں۔ جب ایسے افراد تدریسی عہدوں پر فائز ہوتے ہیں تو وہ نہ صرف خود علمی اعتبار سے چور اور کمزور ہوتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی کم معیار اور چور راستوں کی تعلیم منتقل کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر بھرتیوں کا انحصار صرف انٹرویوز پر ہو، جو اپنی فطرت میں انتہائی حد تک موضوعی (subjective) ہوتے ہیں، تو میرٹ کا قتل ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">اس سنگین صورتحال کا تقاضا ہے کہ بھرتیوں کے موجودہ نظام پر ازسرِ نو نظرثانی کی جائے۔ کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ جامعات سے بھرتیوں کا اختیار واپس لے کر اسے کسی خودمختار اور معتبر ادارے، جیسے پبلک سروس کمیشن یا ہائر ایجوکیشن کمیشن، کے سپرد کر دیا جائے اور ایک ایسا نظام متعارف کروایا جائے جس میں تحریری امتحانات کے ذریعے امیدواروں کی حقیقی علمی استعداد کو جانچا جا سکے اور اس کے بعد شفاف انٹرویو کے ذریعے حتمی انتخاب کیا جائے۔ اس سے نہ صرف میرٹ کو فروغ ملے گا بلکہ اداروں میں آنے والے افراد کا معیار بھی بہتر ہو گا اور سیاسی بیساکھوں پر بھرتیاں بھی بہت حد تک رک جائیں گی۔ اسی طرح یونیورسٹیوں میں ڈیلی ویجز ملازمین کی بھرتی ایک اور بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ عمومی رجحان یہ ہے کہ وائس چانسلرز بڑی تعداد میں ڈیلی ویجز عملہ بھرتی کرتے ہیں، اور یہ بھرتیاں اکثر بااثر شخصیات، سیاسی نمائندوں یا دیگر طاقتور حلقوں کی سفارش پر کی جاتی ہیں۔ اس کے بدلے میں انتظامیہ اپنی دیگر ضروریات یا مفادات حاصل کرتی ہے۔ یہ ایک خطرناک روایت ہے جو نہ صرف مالی بوجھ میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ادارہ جاتی نظم و ضبط کو بھی متاثر کرنے کے علاوہ کرپشن کا امکان پیدا کرتی ہے۔ اس عمل کو محدود کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈیلی ویجز بھرتیوں کو مکمل طور پر کسی مرکزی اتھارٹی کے کنٹرول میں دیا جائے اور صرف انتہائی ناگزیر صورت میں ہی اس کی اجازت ہو۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">وزیٹنگ فیکلٹی کے حوالے سے بھی ایک منظم اور یکساں پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔ مختلف جامعات میں ادائیگیوں کے نرخ، بھرتی کے طریقہ کار اور معیار میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ اگر اس نظام کو ایک مربوط ڈھانچے کے تحت لایا جائے، جہاں بھرتی کا عمل کسی غیر جانبدار ادارے کے ذریعے ہو اور امیدواروں کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے معیاری ٹیسٹ اور انٹرویوز لیے جائیں، تو اس سے انتظامی اور تدریسی معیار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">ایک اور سطحی روایت جو تیزی سے جڑ پکڑ رہی ہے وہ ہے ریٹائرڈ ملازمین کی دوبارہ بھرتی اور ان کو غیر ضروری توسیع دینا۔ یہ عمل نہ صرف نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع محدود کرتا ہے بلکہ اکثر اس کا مقصد مخصوص افراد کو نوازنا ہوتا ہے۔ اس روایت کو فوری طور پر ختم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ ایک شفاف اور منصفانہ نظام قائم ہو سکے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">یہ تمام مسائل درحقیقت اسی “خودمختاری” کے غلط استعمال کا نتیجہ ہیں جسے بغیر کسی مؤثر نگرانی کے جامعات کو دے دیا گیا۔ جب اختیارات کے ساتھ جوابدہی نہ ہو تو وہی ہوتا ہے جو آج پنجاب کی جامعات میں کھلے عام ہو رہا ہے۔ میرٹ کی پامالی، وسائل کا ضیاع، اور تعلیمی معیار کی مسلسل گراوٹ کے حوالے سے اب سوال یہ نہیں رہا کہ اصلاحات کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ اصلاحات کب اور کیسے ہوں گی؟ کیا حکومت، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ ادارے اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے؟ کیا وہ اس نظام کو درست کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے یا پھر یہ سب کچھ اسی طرح چلتا رہے گا؟ وقت کا تقاضا ہے کہ خودمختاری کی آڑ میں رائج ٹھیکیداری کو بے لگام اختیار کے بجائے ذمہ دارانہ نظام میں تبدیل کیا جائے اور ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جہاں میرٹ، شفافیت اور احتساب ہی بنیادی اصول ہوں کیونکہ اگر آج ہم نے ان اداروں کو بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو کل یہ ادارے صرف عمارتیں رہ جائیں گے جن میں نہ علم ہوگا، نہ تحقیق، اور نہ ہی وہ صلاحیت جو کسی قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے قابل ہو سکے</span></p>]]> </content:encoded>
</item>

<item>
<title>پنجاب کی جامعات: خودمختاری یا ٹھیکیداری(پانچویں قسط)</title>
<link>https://dailynijaat.com/482</link>
<guid>https://dailynijaat.com/482</guid>
<description><![CDATA[  ]]></description>
<enclosure url="https://dailynijaat.com/uploads/images/202604/image_870x580_69e678d90d3a7.jpg" length="61961" type="image/jpeg"/>
<pubDate>Tue, 21 Apr 2026 00:05:58 +0500</pubDate>
<dc:creator>WebDesk</dc:creator>
<media:keywords></media:keywords>
<content:encoded><![CDATA[<p><span style="font-size: 14pt;">گزشتہ اقساط میں راقم الحروف نے اس امر کا تفصیلی جائزہ لیا تھا کہ کس طرح بھرتیوں میں بے لگام خودمختاری، کمزور قیادت، اور احتساب کے فقدان نے پنجاب کی جامعات کو ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جہاں میرٹ ایک خواب اور ہر طرح کے مفاداتی تحرک ایک حقیقت بن چکے ہیں۔ مگر اس ساری بحث کا ایک نہایت اہم اور اکثر اوقات نظر انداز کیا جانے والا پہلو یہ بھی ہے کہ جامعات کو کن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، اور قیادت کے تسلسل میں کس قدر خطرناک خلا پیدا کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پنجاب کی متعدد جامعات طویل عرصے تک مستقل وائس چانسلرز سے محروم رہتی ہیں اور انہیں اضافی چارج یا قائم مقام انتظام کے تحت چلایا جاتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے حکومتی ترجیحات پر یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بظاہر یہ ایک عبوری انتظام محسوس ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہی عبوری بندوبست بعض اوقات سالوں تک جاری رہتا ہے، جو کسی بھی ادارے کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">ایسے میں ایک اور بنیادی کمزوری جو ہماری جامعات کے ڈھانچے میں جڑ پکڑ چکی ہے، وہ ایک مضبوط اور بااختیار گورننگ اسٹرکچر کا فقدان ہے۔ دنیا کی کامیاب جامعات میں ایک فعال بورڈ آف گورنرز یا ایگزیکٹو باڈی ہوتی ہے، جس میں نہ صرف جامعہ کے اندرونی افراد بلکہ باہر کے ایسے ماہرین بھی شامل ہوتے ہیں جن کا اپنے شعبوں میں کردار بے داغ اور کارکردگی مثالی ہوتی ہے۔ ان میں دیانت دار ججز، مالیات اور کاروبار کے ماہرین، انجینئرز، اور سنجیدہ ماہرینِ تعلیم شامل ہوتے ہیں نہ کہ وہ نمائشی یا غیر فعال افراد جو محض نشستیں سنبھالنے کے لیے تعینات کر دیے جاتے ہیں اور ادارے کی سمت متعین کرنے میں کوئی حقیقی کردار ادا نہیں کرتے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر بورڈز ایسے افراد پر مشتمل ہوتے ہیں جن کا جامعہ کی ترقی سے کوئی عملی تعلق نہیں ہوتا۔ سیاسی بنیادوں پر تعینات کردہ افراد، وقتی مفادات کے حامل نمائندے، یا وہ لوگ جو صرف نام کے لیے شامل کیے جاتے ہیں، ادارے کو نہ تو وژن دے سکتے ہیں اور نہ ہی اسے بحران سے نکال سکتے ہیں۔ نتیجتاً جامعہ ایک واضح سمت سے محروم ہو جاتی ہے اور پالیسی سازی محض رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر جامعہ کے لیے ایک ایسا خودمختار مگر جوابدہ بورڈ تشکیل دیا جائے جو کم از کم پانچ سے دس سال کے واضح اہداف مقرر کرے۔ یہ اہداف محض کاغذی منصوبے نہ ہوں بلکہ ملک کی مجموعی ضروریات، صنعتی تقاضوں، اور عالمی تعلیمی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیے جائیں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ ان منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھا جائے—یعنی جیسے ہی ایک وائس چانسلر کی مدت ختم ہو، اس کے ساتھ ہی پالیسیوں کا جنازہ نہ نکل جائے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ جیسے ہی قیادت بدلتی ہے، ترجیحات بدل جاتی ہیں، ٹیمیں تحلیل کر دی جاتی ہیں، اور جاری منصوبے ختم کر دیے جاتے ہیں۔ ہر نیا وائس چانسلر اپنے ساتھ ایک نیا ایجنڈا لے کر آتا ہے، جس میں گزشتہ حکمت عملیوں سے کوئی تسلسل نہیں ہوتا۔ یوں جامعہ ایک تجربہ گاہ بن جاتی ہے جہاں ہر چند سال بعد نئے تجربات کیے جاتے ہیں، مگر کوئی بھی منصوبہ اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ پاتا۔ اس عمل نے نہ صرف وسائل کا ضیاع کیا ہے بلکہ اداروں کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">اگر واقعی ہم اپنی جامعات کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس وقتی اور غیر سنجیدہ طرزِ حکمرانی کو ترک کرنا ہوگا۔ اداروں کو افراد کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے مضبوط نظام کے تابع کرنا ہوگا—ایسا نظام جو شخصیات سے بالاتر ہو اور پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنائے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">ایک فعال اور بااختیار بورڈ آف گورنرز ہی وہ پلیٹ فارم ہو سکتا ہے جو وائس چانسلر کی تبدیلی کے باوجود ادارے کے طویل المدتی وژن کو برقرار رکھے، اہداف کی نگرانی کرے، اور اس بات کو یقینی بنائے کہ جامعہ وقتی مفادات کے بجائے قومی ترقی کے ایجنڈے کے تحت آگے بڑھے۔</span><br><span style="font-size: 14pt;">آخر میں سوال وہی ہے جو ہر باشعور ذہن کو جھنجھوڑتا ہے:</span><br><span style="font-size: 14pt;">کیا ہم اپنی جامعات کو واقعی خودمختار اور باوقار ادارے بنانا چاہتے ہیں، یا انہیں ذاتی مفادات اور وقتی اقتدار کے کھیل کا میدان بنائے رکھنا چاہتے ہیں؟</span></p>]]> </content:encoded>
</item>

</channel>
</rss>