سینیٹر شیری رحمٰن: انتظامی یونٹس پر مؤقف واضح، سیاست نہیں

Jul 31, 2026 - 14:26
Updated: 11 days ago
0 1
سینیٹر شیری رحمٰن: انتظامی یونٹس پر مؤقف واضح، سیاست نہیں

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس کے معاملے پر بات آگے نہ رکنی چاہیے۔ ان کے مطابق یہ موضوع عوامی مفاد، بہتر انتظام اور خدمات کی فراہمی سے جڑا ہے، اس لیے اسے جذباتی یا محض سیاسی نعرہ بازی کے بجائے سنجیدگی سے طے کرنا ضروری ہے۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کسی بھی قومی یا صوبائی سطح کے فیصلے میں شفافیت اور حقائق کو بنیاد بنانا چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ جب ریاستی ڈھانچوں اور انتظامی تقسیم کی بات ہو تو اس کے اثرات براہِ راست شہریوں کی زندگیوں پر پڑتے ہیں، مثلاً تعلیم، صحت، مقامی انتظام اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار۔ اس تناظر میں غیر ضروری تاخیر یا غلط فہمی پیدا کرنے والی گفتگو سے گریز ہونا چاہیے۔

سیاست سے ہٹ کر عوامی مفاد پر زور

انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس پر گفتگو کو مثبت سمت میں لے جانا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر مقصد لوگوں کو قریب تر انتظامی سہولتیں دینا ہے تو پھر فیصلوں میں تسلسل اور منطقی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ مختلف حلقوں کی آراء کو سنا جانا چاہیے، مگر فیصلہ محض دباؤ یا وقتی مفادات کے تحت نہیں ہونا چاہیے۔

افواہوں اور غلط تشریحات سے احتیاط

سینیٹر شیری رحمٰن کے مطابق اس نوعیت کے معاملات میں اکثر افواہیں گردش کرتی ہیں جو عوام میں بے چینی پیدا کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں ذمہ دارانہ موقف اپنانا ضروری ہے تاکہ عوام کو درست معلومات ملیں اور پالیسی سازی کے عمل میں رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے زور دیا کہ اداروں کو اپنے دائرۂ اختیار کے مطابق کام کرنا چاہیے اور متعلقہ فریقین کو ایک دوسرے کے ساتھ بامعنی مشاورت جاری رکھنی چاہیے۔

سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انتظامی اصلاحات کے فیصلے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔ اگر کسی منصوبے یا تجویز کے فوائد عوام تک پہنچنے ہوں تو اسے دلیل، اعدادوشمار اور قانونی تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھانا چاہیے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کا موقف یہ ہے کہ گفتگو کو نتیجہ خیز بنایا جائے اور اس موضوع کو محض بحث و تکرار تک محدود نہ رکھا جائے۔

سینیٹر شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ سینیٹ اور متعلقہ فورمز پر ایسے امور کو باقاعدہ انداز میں زیرِ بحث لانا چاہیے تاکہ پالیسی پر عمل درآمد واضح رہے۔ ان کے مطابق بہتر انتظامی ڈھانچہ نہ صرف حکمرانی کو بہتر بناتا ہے بلکہ عوام کے مسائل حل کرنے کی رفتار بھی بڑھاتا ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس کے حوالے سے بات آگے بڑھنی چاہیے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس سے ادارہ جاتی بہتری، خدمات میں بہتری اور عوامی اعتماد میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0
ویب ڈیسک

Daily Nijaat Web Desk

Comments (0)

User