براڈ پیک حادثہ: 12ویں بلند ترین چوٹی پر 10 کوہ پیماؤں کی تلاش

Jul 31, 2026 - 14:26
Updated: 10 days ago
0 1
براڈ پیک حادثہ: 12ویں بلند ترین چوٹی پر 10 کوہ پیماؤں کی تلاش

پاکستان میں دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک (Broad Peak) پر ایک خوفناک حادثے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی اور امدادی ذرائع کے مطابق اس وقت تقریباً 10 کوہ پیماؤں کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ موسم کی سختی اور بلند مقام کے باعث ریسکیو کارروائیاں پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ یہ واقعہ گلیشیئرز اور برفانی ڈھلوانوں کے درمیان پیش آیا، جہاں کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں فوری مدد تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔

براڈ پیک، جو کے ٹو کے قریب واقع ہے اور کوہ پیماؤں کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے، انتہائی خطرناک موسمی حالات، برفانی تودوں اور اونچائی سے متعلق طبی مسائل کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں متحرک کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا کہ حادثے کے وقت کوہ پیماؤں کے گروپ کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری تھیں، تاہم اچانک صورتِ حال تبدیل ہونے سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

حادثے کے بعد فوری اقدامات

ریسکیو آپریشن میں مقامی انتظامیہ، کوہ پیمائی سے وابستہ تجربہ کار افراد اور ممکنہ طور پر خصوصی امدادی ٹیمیں شامل کی جا رہی ہیں۔ امدادی ذرائع کے مطابق لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے مختلف راستوں پر نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ موسم کی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمتِ عملی اپڈیٹ کی جاتی ہے۔ بلند پہاڑوں پر سرچ کے لیے وقت اور درست سمت کا تعین انتہائی اہم ہوتا ہے، کیونکہ برفانی ماحول میں نشانیاں جلد مٹ جاتی ہیں۔

متاثرہ افراد کے اہلِ خانہ اور دوستوں کی جانب سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق رابطے کی کوششیں جاری ہیں اور ممکنہ طور پر سیٹلائٹ یا بیس کیمپ کے ذریعے پیغام رسانی کی سہولتوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے اپڈیٹس کا سلسلہ جاری ہے۔

براڈ پیک پر خطرات اور کوہ پیمائی کی حقیقت

براڈ پیک جیسے بلند ترین اہداف پر کوہ پیمائی صرف جسمانی طاقت نہیں بلکہ منصوبہ بندی، موسم کی پیش گوئی، مناسب سامان اور تجربے کا تقاضا کرتی ہے۔ اونچائی کے باعث آکسیجن کی کمی، برفانی سطحوں پر پھسلن، اور تیز ہواؤں کی وجہ سے رسک نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اسی لیے کوہ پیماؤں کی ٹیمیں عام طور پر موسم کے مطابق روٹ، کیمپنگ پوائنٹس اور واپسی کے متبادل راستے پہلے سے طے کرتی ہیں۔

اس واقعے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ بلند پہاڑوں پر کسی بھی حادثے کی صورت میں ریسکیو کے لیے وسائل، رسائی اور وقت سبھی اہم عوامل ہوتے ہیں۔ برفانی طوفان یا کم مرئیّت کی صورت میں ہیلی کاپٹر آپریشن بھی متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ زمینی راستوں پر سفر مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش: امید برقرار

حکام کے مطابق سرچ آپریشن جاری رہے گا اور جیسے ہی موسم میں بہتری کے امکانات ہوں گے، تلاش کی رفتار بڑھائی جائے گی۔ اس دوران مقامی برادری اور کوہ پیمائی کے تجربہ کار افراد بھی ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کر رہے ہیں۔ متاثرہ افراد کے بارے میں حتمی معلومات آنے تک قیاس آرائی سے گریز کی ہدایت دی جا رہی ہے۔

  • براڈ پیک پر حادثے کے بعد ریسکیو ٹیمیں متحرک
  • تقریباً 10 کوہ پیماؤں کے لاپتہ ہونے کا خدشہ
  • موسم اور بلند مقام کے باعث تلاش میں وقت لگ سکتا ہے

یہ واقعہ پاکستان کی کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک اہم اور دکھ بھرا موڑ ہے۔ جیسے جیسے ریسکیو کارروائیاں آگے بڑھیں گی، عوام کو تازہ اپڈیٹس بھی فراہم کیے جائیں گے۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0
ویب ڈیسک

Daily Nijaat Web Desk

Comments (0)

User