شرجیل انعام میمن: ن لیگ کے غنڈہ کلچر کی بھرپور مذمت
سندھ کے سینئر وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بدمعاشوں اور غنڈوں کو آگے لا کر سیاسی گفتگو کو بدامنی میں بدلنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق سیاست کا میدان بحث و مباحثے اور عوامی مسائل کے حل سے متعلق ہونا چاہیے، نہ کہ طاقت کے اظہار اور دھمکیوں کے کلچر سے۔
شرجیل انعام میمن نے یہ بات اس تناظر میں کہی کہ حالیہ دنوں میں سیاسی بیانات، جلسہ جلوس اور کارکنوں کے درمیان تلخیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایسے رویّوں کی سختی سے مخالفت کرتی ہے اور عوامی نمائندگی کو باوقار انداز میں آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ میں امن و امان اور اداروں کی بالادستی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن اگر واقعی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا چاہتی ہے تو اسے الزام تراشی اور اشتعال انگیزی کے بجائے پالیسیوں اور کارکردگی پر بات کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات فطری ہیں، مگر اختلاف کو تشدد یا کردار کشی میں بدلنا کسی بھی جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔
سیاست میں تحمل اور جمہوری اقدار
شرجیل انعام میمن کے بیان میں ایک نمایاں نکتہ یہ بھی تھا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے سیاسی قیادت کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ہمیشہ ایسے رہنماؤں کی حمایت کی ہے جو مسائل کے حل کے لیے واضح حکمت عملی پیش کریں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی سندھ میں عوامی خدمت کے اپنے بیانیے پر قائم ہے اور وہ ایسے بیانات سے گریز کرتی ہے جو ماحول کو مزید کشیدہ کریں۔
سندھ کے مسائل اور حکومتی ترجیحات
سیاسی تنقید کے ساتھ شرجیل انعام میمن نے یہ بھی اشارہ دیا کہ توجہ بنیادی طور پر سندھ کے عوامی مسائل پر ہونی چاہیے، جن میں روزگار، تعلیم، صحت اور شہری و دیہی سہولتوں کی بہتری شامل ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لائے اور عوام کو محسوس ہونے والی تبدیلی لائے۔
- امن و امان کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور
- سیاسی گفتگو کو تشدد سے دور رکھنے کا مطالبہ
- عوامی مسائل پر پالیسی بنیاد گفتگو کی تلقین
بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث تیز ہو گئی ہے کہ آیا موجودہ سیاسی فضا میں سخت زبان مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے یا پھر یہ محض انتخابی و بیانیاتی تقابل کا حصہ ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے رہنما کا موقف یہ ہے کہ جمہوری اداروں کی مضبوطی اور عوامی اعتماد کے لیے سیاسی قیادت کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔
آخر میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی بھی صورت میں انتقام یا اشتعال انگیزی کے راستے پر نہیں چلے گی۔ ان کے مطابق سندھ اور پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ قانون کی بالادستی، جمہوری اقدار اور عوام دوست اقدامات ہیں۔
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0
Comments (0)