محسن نقوی: خطے میں پائیدار امن کیلئے پاکستان کی مشترکہ کوششیں
اسکرین گریب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن کا قیام صرف ایک فریق کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کے لیے باہمی رابطہ، اعتماد سازی اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی ترجیحات میں سکیورٹی کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی اور ہمسایہ ممالک و شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا شامل ہے۔
محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ خطے میں امن کے اہداف کے حصول کے لیے سیاسی مکالمہ اور ادارہ جاتی تعاون کو بڑھانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ممالک مشترکہ مفادات کو سامنے رکھ کر حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں تو دہشت گردی، انتہا پسندی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خطرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی کوششیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ سرحدی انتظام، انٹیلی جنس شیئرنگ اور کرائم کنٹرول کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے۔
وزیرِ داخلہ نے امید ظاہر کی کہ اس بار بھی مثبت پیش رفت ہوگی۔ ان کے مطابق پائیدار امن تب ممکن ہوتا ہے جب منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ عملدرآمد بھی مؤثر ہو۔ حکومت نے داخلی سطح پر بھی امن و امان کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے انتظامی اقدامات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں بہتری اور شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دینے کا عزم کیا ہے۔
مشترکہ امن کیلئے اہم سمتیں
- سیاسی و سفارتی رابطہ: باہمی مفاہمت اور مکالمے کے ذریعے غلط فہمیوں کو کم کرنا۔
- سکیورٹی تعاون: انٹیلی جنس، بارڈر مینجمنٹ اور مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے خطرات پر قابو۔
- قانونی فریم ورک: جرائم کے خاتمے اور عدالتی و انتظامی نظم کو مؤثر بنانا۔
- اعتماد سازی: شفاف اقدامات اور مسلسل رابطے سے اعتماد میں اضافہ۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ خطے میں امن کا دارومدار صرف جنگ بندی یا وقتی اقدامات پر نہیں بلکہ دیرپا استحکام پر ہے۔ محسن نقوی کے مطابق پاکستان اس استحکام کے لیے ایسے راستے تلاش کر رہا ہے جن کے ذریعے معاشی و سماجی سطح پر بھی تعاون بڑھ سکے۔ جب معاشی روابط بہتر ہوں اور روزگار و ترقی کے مواقع بڑھیں تو انتہا پسندی کی جگہ مثبت سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے۔
وزیرِ داخلہ نے یہ بھی تاثر دیا کہ داخلی اصلاحات اور بین الاقوامی/علاقائی تعاون ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر اندرونی ادارے مضبوط ہوں اور سکیورٹی نظام مؤثر انداز میں کام کرے تو علاقائی سطح پر تعاون بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت نے خطرات کی بروقت نشاندہی، تفتیشی صلاحیتوں میں اضافہ اور عوامی تحفظ کے اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
آخر میں محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی کوششیں جاری رہیں گی اور امید ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اس بار بھی نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ ان کا پیغام یہی تھا کہ امن، سلامتی اور ترقی کے اہداف کے لیے مشترکہ کوششوں کا سلسلہ برقرار رکھا جائے، تاکہ خطہ ایک محفوظ اور مستحکم سمت میں آگے بڑھ سکے۔
What's Your Reaction?
Like
0
Dislike
0
Love
0
Funny
0
Wow
0
Sad
0
Angry
0
Comments (0)