گندم و آٹے کی قیمتوں کے بعد روٹی مہنگی؛ لاہور میں نئی شرحیں

Jul 26, 2026 - 11:13
Updated: 1 month ago
0 1
گندم و آٹے کی قیمتوں کے بعد روٹی مہنگی؛ لاہور میں نئی شرحیں

ملک بھر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تندوروں پر روٹی کی قیمت بھی بڑھا دی گئی۔ لاہور میں تندور مالکان کی جانب سے روٹی کی نئی شرحیں نافذ کیے جانے کے بعد شہریوں کی روزمرہ خریداری پر واضح اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ چونکہ روٹی عام گھریلو استعمال کی بنیادی ضرورت ہے، اس لیے قیمت میں معمولی اضافہ بھی مجموعی اخراجات میں نمایاں اضافہ بن سکتا ہے۔

لاہور میں تندوروں کی سطح پر تبدیلی کا آغاز اس پس منظر میں ہوا کہ حالیہ دنوں میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث آٹے کی دستیابی اور لاگت دونوں متاثر ہوئے۔ تندور مالکان کے مطابق انہیں آٹا مہنگے داموں خریدنا پڑ رہا ہے، جبکہ بجلی، گیس، مزدوری اور دیگر آپریشنل اخراجات بھی بڑھ چکے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔

تندور مالکان کے مطابق وجوہات

تندور مالکان کا کہنا ہے کہ روٹی کی تیاری میں استعمال ہونے والا آٹا قیمت کی تبدیلیوں سے براہ راست جڑا ہے۔ اس کے علاوہ خمیر، نمکیات، صفائی کے اخراجات، اور تندور کی دیکھ بھال جیسے عوامل بھی بڑھتی مہنگائی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اگر ان پٹ لاگت بڑھے اور فروخت کی قیمت وہی رہے تو کاروبار چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔

شہریوں پر اثرات

قیمت میں اضافہ سب سے زیادہ اُن خاندانوں کو متاثر کر رہا ہے جن کی آمدنی محدود ہے۔ بہت سے شہریوں کے مطابق وہ پہلے ہی اشیائے خورونوش کی مہنگائی کے دباؤ میں ہیں، اور روٹی کی قیمت میں تبدیلی کے بعد گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ پڑے گا۔ بعض لوگ مقدار میں کمی یا متبادل خوراک کی تلاش کی بات کر رہے ہیں، جبکہ کچھ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت آٹے اور گندم کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

بازار میں عمومی تاثر یہ بھی ہے کہ اگرچہ قیمت میں اضافہ “لاگت کے مطابق” بتایا جا رہا ہے، مگر اس کا فائدہ عوام تک مؤثر طریقے سے پہنچنے کی رفتار واضح نہیں۔ شہریوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آٹے کی قیمتیں کس سطح پر بڑھ رہی ہیں اور تندور تک اس کا اثر کس حد تک پہنچ رہا ہے۔

حکومتی نگرانی اور ممکنہ حل

ماہرین کے مطابق روٹی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے گندم اور آٹے کی سپلائی چین کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔ اس میں ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، مناسب کوالٹی کے آٹے کی دستیابی، اور مقامی سطح پر قیمتوں کی نگرانی شامل ہونی چاہیے۔ اگر سبسڈی یا ریلیف پالیسی موجود ہو تو اسے بروقت اور شفاف انداز میں عوام تک پہنچانا اہم ہے تاکہ اصل فائدہ صارف کو مل سکے۔

اس صورتحال میں شہریوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ سرکاری نرخ ناموں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات سے آگاہ رہیں۔ دوسری جانب، تندوروں کی سطح پر میعاری روٹی، حفظانِ صحت کے اصول، اور وزن/معیار کی مستقل مزاجی عوام کے اعتماد کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

اگر گندم و آٹے کی قیمتیں مزید بڑھیں تو روٹی کی قیمت میں مزید ایڈجسٹمنٹ کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تاہم اگر سپلائی بہتر ہو اور قیمتوں میں استحکام آئے تو تندوروں کو بھی اپنی قیمتوں میں نظر ثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔ اس دوران حکومت، تاجر نمائندوں اور صارفین کے درمیان مؤثر رابطہ اور نگرانی کا نظام عوامی مفاد میں رہے گا۔

  • گندم اور آٹے کی قیمتوں کی روزانہ یا ہفتہ وار مانیٹرنگ
  • ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی
  • تندوروں میں وزن اور معیار کی پابندی
  • کم آمدنی والے شہریوں کے لیے ہدفی ریلیف

لاہور سمیت ملک بھر میں روٹی کی قیمت میں اضافہ ایک معاشی حقیقت کے طور پر سامنے آیا ہے، مگر اس کے اثرات کم کرنے کے لیے فوری پالیسی اقدامات اور شفاف نگرانی ناگزیر ہے۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0
ویب ڈیسک

Daily Nijaat Web Desk

Comments (0)

User