6-8 گھنٹے سونے کے باوجود معمر افراد میں نیند کا معیار کیوں گرتا ہے؟

Jul 31, 2026 - 14:25
Updated: 10 days ago
0 1
6-8 گھنٹے سونے کے باوجود معمر افراد میں نیند کا معیار کیوں گرتا ہے؟

ایک نئی تحقیق کے مطابق ہر 10 میں سے 9 معمر افراد رات کو ماہرین کی تجویز کردہ چھ سے آٹھ گھنٹے سونے کے باوجود معیاری اور پرسکون نیند سے محروم رہتے ہیں۔ یعنی مسئلہ صرف وقتِ نیند نہیں بلکہ نیند کا معیار اور اس کی تسلسل پذیری ہے۔ یہ فرق خاص طور پر بزرگ عمر میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے، جہاں جسمانی تبدیلیاں، صحت کی بیماریاں اور روزمرہ عادات مل کر نیند کے تجربے کو متاثر کرتی ہیں۔

عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر سونے کے گھنٹے پورے ہو جائیں تو نیند “ٹھیک” سمجھی جائے گی۔ مگر تحقیق کے نتائج اس مفروضے کو چیلنج کرتے ہیں۔ بزرگوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ بستر پر کافی دیر رہتے ہیں، مگر بار بار بیداری، ہلکی نیند، یا نیند کے دوران سانس کے مسائل کی وجہ سے نیند کا بحالی والا فائدہ کم ہو جاتا ہے۔

وقت کم نہیں، معیار متاثر کیوں ہوتا ہے؟

تحقیق کے مطابق کئی عوامل مل کر سلیپ کوالٹی کو گرتے ہیں:

  • عمر کے ساتھ جسمانی گھڑی میں تبدیلی: سرکیڈین ردم (circadian rhythm) متاثر ہونے سے نیند کا آغاز اور تسلسل مشکل ہو سکتا ہے۔
  • بار بار پیشاب کی ضرورت: رات میں اٹھنا نیند کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار بنا دیتا ہے، چاہے مجموعی گھنٹے پورے ہوں۔
  • درد اور جوڑوں کی تکلیف: کمر، گھٹنے یا گردن کے درد سے نیند کی گہرائی کم اور حرکتیں زیادہ ہو جاتی ہیں۔
  • سلیپ اپنیا اور سانس کے مسائل: خرراٹے یا سانس رکنے کے واقعات نیند کو ہلکا اور ٹوٹا ہوا کر دیتے ہیں۔
  • دواؤں کے اثرات: کچھ ادویات نیند کو بے ترتیب کر سکتی ہیں یا دن میں غنودگی بڑھا کر رات کی نیند متاثر کرتی ہیں۔
  • ذہنی دباؤ اور بے چینی: تناؤ، ڈپریشن یا فکر کی وجہ سے دماغ آرام کی حالت میں کم دیر رہتا ہے۔

“6-8 گھنٹے” کافی کیوں نہیں رہتے؟

نیند کی پیمائش صرف مدت سے نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر عام طور پر نیند کے مراحل، بیداری کی تعداد، نیند میں تاخیر (sleep latency)، اور دن میں توانائی کی سطح کو بھی دیکھتے ہیں۔ بزرگ افراد میں یہ ممکن ہے کہ وہ مقررہ مدت پوری کر لیں مگر نیند کی گہرائی کم ہو، جس سے صبح اٹھنے پر بھی تھکن، چڑچڑاپن اور توجہ میں کمی محسوس ہو سکتی ہے۔

معیاری نیند بہتر بنانے کے عملی اقدامات

اگرچہ ہر وجہ مختلف ہو سکتی ہے، مگر چند عادات اکثر فائدہ دیتی ہیں:

  1. وقتِ سونے اور جاگنے کو مستقل رکھیں، حتیٰ کہ چھٹی کے دن بھی۔
  2. رات کے وقت کیفین اور بھاری کھانوں سے پرہیز (خصوصاً شام کے بعد)۔
  3. دن میں جھپکی محدود کریں اور اگر ضروری ہو تو مختصر رکھیں۔
  4. سونے سے پہلے اسکرین ٹائم کم اور کمرہ ٹھنڈا و پرسکون رکھیں۔
  5. درد، پیشاب کی تکلیف یا خرراٹوں کا علاج کروائیں—یہ نیند کے معیار کے بنیادی محرک ہو سکتے ہیں۔
  6. دواؤں کے شیڈول پر ڈاکٹر سے مشورہ کریں، خاص طور پر اگر رات میں بار بار جاگنا معمول بن چکا ہو۔

اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی بزرگ کو مسلسل بے خوابی، بار بار بیداری، شدید خرراٹے یا دن میں غیر معمولی نیند آتی ہو تو اسے صرف “عمر کا اثر” سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مناسب تشخیص اور ہدفی علاج نیند کے معیار میں واضح بہتری لا سکتا ہے۔

What's Your Reaction?

Like Like 0
Dislike Dislike 0
Love Love 0
Funny Funny 0
Wow Wow 0
Sad Sad 0
Angry Angry 0
ویب ڈیسک

Daily Nijaat Web Desk

Comments (0)

User