آن لائن حراسانی ، خواتین صحافیوں کی نصف تعداد خود سنسرشپ پر مجبور
(24 ںیوز )صنفی مساوات کے لیے کام کرنے والے ادارے یو این ویمن کی نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی بدسلوکی اور ہراسانی کے باعث خواتین صحافیوں کی نصف تعداد خود سنسرشپ پر مجبور ہو چکی ہے، جبکہ 22 فیصد اپنے پیشہ وارانہ کام میں بھی یہی طرزِ عمل اختیار کر رہی ہیں۔
(24 ںیوز )صنفی مساوات کے لیے کام کرنے والے ادارے یو این ویمن کی نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی بدسلوکی اور ہراسانی کے باعث خواتین صحافیوں کی نصف تعداد خود سنسرشپ پر مجبور ہو چکی ہے، جبکہ 22 فیصد اپنے پیشہ وارانہ کام میں بھی یہی طرزِ عمل اختیار کر رہی ہیں۔