پنجاب میں غنڈہ ایکٹ 1959 کی جگہ نیا سخت قانون لانے کا فیصلہ

صوبائی کابینہ نے نئے قانون کی منظوری دے دی، جلد پنجاب اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان

Jun 3, 2026 - 17:58
 0  0
پنجاب میں غنڈہ ایکٹ 1959 کی جگہ نیا سخت قانون لانے کا فیصلہ
پنجاب حکومت نے غنڈہ گردی، بھتہ خوری اور گینگ سرگرمیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے پرانے غنڈا ایکٹ 1959 کی جگہ نیا سخت قانون متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت عادی مجرموں کو “اینٹی سوشل پرسن” قرار دیا جائے گا جبکہ ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹیوں کو مشتبہ افراد کو ڈکلیئر کرنے کے اختیارات بھی دیے جائیں گے۔ نئے قانون میں سزاؤں کو بھی سخت کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ابتدائی جرائم پر 3 سے 5 سال تک قید دی جا سکے گی جبکہ بار بار جرم کرنے والوں کے لیے سزا بڑھا کر 7 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید اختیارات دیتے ہوئے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کی اجازت بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کو جدید الیکٹرانک نگرانی اور سرویلنس کے اختیارات فراہم کیے جائیں گے۔ مجوزہ قانون میں ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش، قبضہ مافیا کی سرگرمیاں، سائبر کرائم اور ہراسگی کو بھی باقاعدہ طور پر قابلِ سزا جرائم میں شامل کیا گیا ہے۔ صوبائی کابینہ نے اس قانون کی منظوری دے دی ہے اور توقع ہے کہ اسے جلد پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا، جہاں منظوری کے بعد اس کا باقاعدہ نفاذ عمل میں آئے گا۔ حکام کے مطابق اس قانون کا مقصد معاشرے میں امن و امان کو بہتر بنانا اور پیشہ ور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔

What's Your Reaction?

like

dislike

love

funny

angry

sad

wow