کفایت شعاری اصلاحات؛ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے 4.5 ارب روپے کی ریکارڈ بچت کر لی
قومی اسمبلی سکریٹریٹ میں کفایت شعاری اور جدید انتظامی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ گئے
اسپیکر سردار ایاز صادق کی کفایت شعاری اصلاحات کے نتیجے میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے 4.5 ارب روپے کی ریکارڈ بچت کر لی۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے رواں مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں 27.3 فیصد بچت حاصل کر لی۔
قومی اسمبلی سکریٹریٹ میں کفایت شعاری اور جدید انتظامی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ گئے جہاں مالی نظم و ضبط اور شفافیت کو فروغ دیا گیا۔
قومی اسمبلی پیپر لیس پارلیمنٹ کے وژن کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہے، پارلیمانی امور کی ڈیجیٹلائزیشن سے اخراجات میں نمایاں کمی ہوئی اور کارکردگی میں بہتری آئی۔ قومی اسمبلی جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے مزین پارلیمنٹ بننے کی جانب گامزن ہے۔
انتظامی ڈھانچے کی بہتری سے قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا رہا ہے، اسامیوں کی تعداد میں کمی اور افرادی قوت کی بہتر ترتیب سے ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری لائی جا رہی ہے۔
قومی اسمبلی میں اسامیوں کی تعداد کو 1725 سے کم کرکے 1344 کیا گیا جبکہ مالی سال 2026-27 کے دوران مزید 80 اسامیاں ختم کی جائے گی۔ ملازمین اور ارکین اسمبلی کی تنخواہوں کے بجٹ میں بہتر اصلاحات کے ذریعے 2 ارب روپے کی بچت کی گئی۔
اصلاحاتی عمل کے دوران کسی ملازم کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا گیا، بہتر مالی نگرانی اور کفایت شعاری سے اربوں روپے کی بچت ممکن ہوئی۔ کاغذ اور ریکارڈ مینجمنٹ کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی گئی، جدید انتظامی نظام کے نفاذ سے فیصلہ سازی اور دفتری امور میں بہتری آئی۔
سرکاری ٹرانسپورٹ اور سفری اخراجات میں مؤثر انتظام کے ذریعے نمایاں بچت حاصل ہوئی، انتظامی امور میں اصلاحات کے ذریعے 2.5 ارب روپے کی بچت کی گئی۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ قومی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال قومی اسمبلی کی اولین ترجیح ہے، پارلیمنٹ مالی نظم و ضبط اور اچھی حکمرانی کی عملی مثال قائم کر رہی ہے، اصلاحات کا عمل قومی اسمبلی کو جدید، مؤثر اور عوام دوست ادارہ بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔