رحیم یارخان: نہری پانی چوری سکینڈل، خفیہ انکوائری شروع، محکمہ انہار میں ہلچل
رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)نہری پانی چوری اسکینڈل ،ایکسین،ایس ڈی اور سب انجینئرز کی کرپشن،مبینہ رشوت خوری کے مزید قصے منظر عام پر آنے لگے،نہروں سے پانی کی چوری،موگوں کے سائز میں غیر قانونی تبدیلیوں،بااثر زمینداروں، مستاجروں،ٹھیکیداروں کو مبینہ نوازنے کے حوالے سے شائع ہونیوالی خبر کے بعد محکمہ انہار میں ہلچل مچ گئی،معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب ،صوبائی وزیر آبپاشی،سیکرٹری آبپاشی ، سپرنٹنڈنگ انجینئر (ایس ای)کے نوٹس میں آگیا،رشوت خور افسران میں تھرتھلی مچ گئی،بڑ ے پانی چوروں سے رابطے،موگوں کی ری سائزنگ،نہروں میں لگی ٹیوبیں ہٹانے کیلئے نام نہار آپریشن کرنے کی فیصلہ کرلیا گیا،ٹیل کے کاشتکاروں اور چھوٹے زمینداروں نے الزامات کی بوچھاڑ کردی،محکمہ انہار کے افسران نے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردئیے،معاملہ کو سنگینی سے دیکھ رہے ہیں اور خفیہ انکوائری بھی کرائی جا رہی ہے،بہت جلد حقائق میڈیا کے سامنے لائینگے،سپرنٹنڈنگ انجینئر خالد محمود چوہدری ۔تفصیل کے مطابق رحیم یارخان میں نہری پانی کی چوری اورموگوں کے سائز میں غیر قانونی تبدیلیوں کرکے بڑے زمینداروں،مستاجروں ،ٹھیکیداروں کو نوازنے شائع ہونیوالی خبر نے محکمہ انہار میں ہلچل مچا دی ہے،باخبر معتبر ذرائع کے مطابق معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف،صوبائی وزیر آبپاشی کاظم علی پیرزادہ،سیکرٹری آبپاشی کے نوٹس میں... The post رحیم یارخان: نہری پانی چوری سکینڈل، خفیہ انکوائری شروع، محکمہ انہار میں ہلچل first appeared on Daily Qaum.
رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)نہری پانی چوری اسکینڈل ،ایکسین،ایس ڈی اور سب انجینئرز کی کرپشن،مبینہ رشوت خوری کے مزید قصے منظر عام پر آنے لگے،نہروں سے پانی کی چوری،موگوں کے سائز میں غیر قانونی تبدیلیوں،بااثر زمینداروں، مستاجروں،ٹھیکیداروں کو مبینہ نوازنے کے حوالے سے شائع ہونیوالی خبر کے بعد محکمہ انہار میں ہلچل مچ گئی،معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب ،صوبائی وزیر آبپاشی،سیکرٹری آبپاشی ، سپرنٹنڈنگ انجینئر (ایس ای)کے نوٹس میں آگیا،رشوت خور افسران میں تھرتھلی مچ گئی،بڑ ے پانی چوروں سے رابطے،موگوں کی ری سائزنگ،نہروں میں لگی ٹیوبیں ہٹانے کیلئے نام نہار آپریشن کرنے کی فیصلہ کرلیا گیا،ٹیل کے کاشتکاروں اور چھوٹے زمینداروں نے الزامات کی بوچھاڑ کردی،محکمہ انہار کے افسران نے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردئیے،معاملہ کو سنگینی سے دیکھ رہے ہیں اور خفیہ انکوائری بھی کرائی جا رہی ہے،بہت جلد حقائق میڈیا کے سامنے لائینگے،سپرنٹنڈنگ انجینئر خالد محمود چوہدری ۔تفصیل کے مطابق رحیم یارخان میں نہری پانی کی چوری اورموگوں کے سائز میں غیر قانونی تبدیلیوں کرکے بڑے زمینداروں،مستاجروں ،ٹھیکیداروں کو نوازنے شائع ہونیوالی خبر نے محکمہ انہار میں ہلچل مچا دی ہے،باخبر معتبر ذرائع کے مطابق معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف،صوبائی وزیر آبپاشی کاظم علی پیرزادہ،سیکرٹری آبپاشی کے نوٹس میں آنے کے بعد ایکسین محسن ،ایس ڈی او زمران،سب انجینئرز نعمان ،طاہر رانجھا،جہانزیب خان،جان محمد،محمد حمید،جام افضل،طاہر مقصود،نعمان طاہر،کامران بٹ،فاروق اعوان ،چوہدری ذوالفقار ،حمزہ حسین نے بڑے زمینداروں سے مبینہ طور رابطے کرکے موگوں کی ری سائزنگ کرنے کیلئے منت ترلے کرنا شروع کر رکھے ہیں اور متعلقہ نہروں دیگی مائنر،بنگلہ منٹھار کنڈیر مائنر،کوٹ سمابہ رحیم یارخان برانچ میں لگی ہوئی ٹیوبیں ہٹانے کیلئے نام نہاد آپریشن کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس سلسلہ میں بڑے زمینداروں سے انکے ملازمین کے ناموں کی لسٹیں بھی منگوائی گئی ہیں جن پر پانی چوری کے مقدمات دئیے جائینگے تاکہ افسران کو اپنی کارکردگی شو کروا کے کرپشن اور رشوت خوری جیسے سنگین معاملات سے افسران کی توجہ ہٹائی جا سکے،ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خبر کی اشاعت کے بعد متعلقہ ڈویژن کے افسران اور فیلڈ عملہ شدید دباؤ کا شکار ہیں ،دوسری جانب ٹیل کے کاشتکاروں اور چھوٹے زمینداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کارروائی صرف نمائشی ثابت ہوئی تو اصل ذمہ دار عناصر بچ نکلیں گے،ان کا مطالبہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں کے ریکارڈ، موگوں کی پیمائش، پانی کی تقسیم کے نظام اور مبینہ غیرقانونی تنصیبات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں،کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ صرف چند ٹیوبیں اکھاڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس امر کا بھی تعین ہونا چاہیے کہ مبینہ طور پر غیرقانونی تنصیبات کس کی اجازت سے لگائی گئیں، موگوں کے سائز میں تبدیلی کس کے احکامات پر کی گئی اور ٹیل کے کاشتکاروں کے حصے کا پانی کہاں گیا،ٹیل کے کاشتکاروں اور چھوٹے زمینداروں وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری آبپاشی اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے، ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے اور نہری پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے تاکہ ٹیل کے کاشتکاروں کو ان کا حق مل سکے۔محکمہ انہار کے سپرنٹنڈنگ انجینئر (ایس ای)خالد محمود چوہدری کا کہنا ہے کہ خبروں کی اشاعت کے بعد معاملات نوٹس میں آئے ہیں جن کی خفیہ انکوائری کروائی جا رہی ہے اگر محکمہ کے ملازمین اس میں ملوث پائے گئے تو انکے خلاف محکمانہ قوانین اور پیڈا ایکٹ کے تحت سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔
The post رحیم یارخان: نہری پانی چوری سکینڈل، خفیہ انکوائری شروع، محکمہ انہار میں ہلچل first appeared on Daily Qaum.
What's Your Reaction?
